شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 451 of 548

شحنۂِ حق — Page 451

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۳۷ شحنه حق ہندو ہو گیا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ جس سے مراد ہے دریا سندھ کے کنارے کے باشندے۔ بقیه حاشیہ دوئم ممکن ہے کہ یہ ہندو نام سنسکرت کے دو لفظوں سے بنا ہو یعنی ہین اور دوش سے جن کے معنے بے نقص کے ہیں اور ممکن ہے کہ کثرت استعمال کے سبب ان میں سے چند الفاظ چھوٹ بھی گئے ہوں جیسا ۳۳) کہ ہندو استھان کی بجائے اب ہندوستان بولا جاتا ہے اور کثرت استعمال کے سبب استھان میں سے الف اور ہائے ہوز چھوٹ گیا ہے اور عقل بھی قبول کرتی ہے کہ ہندوؤں کے بزرگوں نے جو ہوشمند تھے ایسے بقیه حاشیه در حاشیه : اور اس کی عقل کو کسی غرض سے اندھا نہ کر رکھا ہو بھی نہ کہے گا کہ وہ تبدیل کئے جاویں کیونکہ ہمیں غیروں کی زبان سے کیا غرض ہے ہر ایک کو اپنی ہی زبان میں دیکھنا چاہئے کہ ہماری زبان میں اس لفظ یا نام کے کیا معنے ہیں ویسا ہی ہندوؤں اور آریوں کو اپنے ناموں کے معنے اپنی زبان سنسکرت میں دیکھنے چاہئیں نہ کہ زبان فارسی و عربی میں لیکن ہم کو تو اس کے برعکس یہ معلوم ہوتا ہے کہ دیانند جی وان کے پیرو منسکرت زبان کے الفاظوں کو فارسی زبان کے الفاظوں کا مغلوب سمجھ کر سنسکرت الفاظ ترک کرتے رہے ہیں مثلاً جب دیانند جی نے ۳۴ ح رح سنا کہ زبان فارسی میں اسیر باد کے معنے قید ہونے کے ہیں تو اس لحاظ سے انہوں نے سنسکرت لفظ اشیر باد کو تیاگ دیا اور بجائے اس کے نمستے قرار دیا حالانکہ جو لفظ اشیر باد ہے وہ سنسکرت میں اچھے معنے رکھتا اور بہت پرانا لفظ ہے اور منوسمرتی اور دیگر معتبر کتب ہنود میں بہت جگہ پایا جاتا ہی نہیں بلکہ اس کے استعمال کے لئے نہایت درجہ کی تاکید بھی کی گئی ہے دیکھو منو سمرتی ادھیائے ۲ شلوک ۱۲۶ ترجمہ جو شخص اشیر باد دینے کے کلام کو نہیں جانتا اس کو پر نام کرنا نہ چاہئے وہ شودر کی مانند ہے اور یہ ہر کہ ومہ پر ظاہر ہے کہ مختلف زبانوں کے بعض بعض الفاظ و نام آپس میں کسی قدر مشابہ بھی ہوا کرتے ہیں لیکن ان کے معنوں میں بہت بڑا اختلاف پایا جاتا ہے اور یہ کسی حال میں ممکن نہیں کہ ہر ایک نام یا الفاظ کے معنے تمام زبانوں میں اچھے یا برے آپس میں موافق ہوں اگر ہم کو اس سبب سے الفاظ واسمائے ترک و تبدیل کرنے پڑیں تو تمام جہان کے الفاظ ترک و تبدیل کرنے پڑیں گے جو محض نا ممکن ہی نہیں بلکہ سخت بیوقوفی ہے اور دیانند جی کے پیروؤں کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ہندو نام اس قوم کا محمد یوں کے فلاں بادشاہ نے فلاں زمانے میں رکھا تھا اور باوجود علم اور ہوش رکھنے کے اس قوم کے بزرگوں نے بخوشی یا جبرا اپنے پر عائد کر لیا تھا اور یہ سب پر روشن ہے کہ ہندو راجوں اور عالموں نے سوائے دیانند جی اور ان کے پنتھ والوں کے بھی کوئی اعتراض پر یہ نہیں کیا اور ہندوؤں کے پستکوں میں اس نام کا رواج پایا جاتا ہے مثلاً گورونا تک صاحب کے آدگرنتھ میں بار بار اس قوم کا نام ہندو لکھا ہوا موجود ہے اور نیز ۳۵ ح رح گوبند سنگھ صاحب جو زبان فارسی میں بھی اچھی مہارت رکھتے تھے ان کو بھی یہ نہ معلوم ہوا کہ جس قوم میں سے ہم لوگ ہیں اس کا نام محمد یوں کی جانب سے بہت برا رکھا گیا ہے اس لئے وہ نام تبدیل کیا جاوے اور غور کا مقام ہے کہ اکبر بادشاہ جو بے تعصب مشہور ہے اور جس کے عہد میں بہت ہندو دانا امیر اور وزیر اور زبان فارسی سہو کتابت معلوم ہوتا ہے اس پر “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)