شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 445 of 548

شحنۂِ حق — Page 445

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۳۱ شحنه حق ہیں جو کبھی معدوم نہیں ہو سکتیں لیکن محقق فلاسفروں نے اس کو قبول نہیں کیا اور حکیم ارسطاطالیس نے بڑی تحقیق سے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ قادر مطلق نے صرف انسانی روح کو ایسا بنایا ہے کہ وہ باقی رہے گی دوسری تمام روحیں نابود ہو جائیں گی بلکہ حکیموں کے نزدیک بعض روحیں ایسی ہیں جن کا طرفۃ العین میں حدوث وفنا کا وقت گزر جاتا ہے۔ افلاطون نے ایسا خیال کیا تھا کہ سب روحیں انسانی روح کی مانند قابل بقا ہیں مگر ارسطو و غیر ہ حکیموں پر جو اس کے بعد تھے یہ غلطی کھل گئی جیسا کہ اب تک یہ دستور دیکھا جاتا ہے کہ متقدمین کی غلطیوں کی اصلاح کرنے والے متاخرین ہی ہوتے ہیں ۔ حکماء جدید یورپ جنہوں نے نظام فیثا غوری کے مطابق بیت کی تصحیح کی اور نظام بطلیموسی کی غلطیاں نکالیں اور عجیب عجیب تحقیقا تیں علم طبعی میں کیں انہوں نے بھی افلاطون کو اس خیال میں جھوٹا سمجھا کہ تمام ارواح از لی و ابدی ہیں بلکہ بیکن وغیرہ حکماء اس بات کے قائل ہیں کہ کوئی روح از لی نہیں اور تمام روحوں میں سے صرف انسانی روح دائمی بقا کے لئے پیدا کی گئی ہے نہ دوسری حیوانات کی روحیں ۔ غرض افلاطون کی رائے کو جمہور حکماء نے رڈ کر دیا اور افلاطون نے اور بھی کئی فاش غلطیاں کی تھیں جیسے مثل افلاطون کا مسئلہ جس کی وجہ سے بہت سی تشفیع اور لعنت ملامت اب تک اس کو ہوتی رہی ہے اور حکماء میں سے ایک گروہ جود ہر یہ اور خدا تعالیٰ کا منکر ہے جن کا فرقہ آج کل یورپ میں کثرت سے پھیلتا جاتا ہے وہ انسان کی روح کو بھی بعد مفارقت بدن معدوم خیال کرتے ہیں اور آریہ اس بات سے بھی واقف ہیں کہ ان کی قوم میں وہ فرقہ جو سب سے بڑھ کر ویدوں پر چلنے کا دعویٰ کرتا ہے اور قریباً تمام ہندو اسی فرقہ کے پیرونظر