شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 444 of 548

شحنۂِ حق — Page 444

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۳۰ شحنه حق که روز بروز انہیں غارت ہی کرتا جاتا ہے۔ شاید مردے جلانے کی بھی یہی اصلیت ہوگی کہ پر میشر کا قہر ان کے ظاہر و باطن پر بھڑ کا ہوا ہے۔سواس نے مردوں میں بھی قہر کا نمونہ رکھنا چاہا۔ اسی وجہ سے ہر ایک ہند و یقین دل سے جانتا ہے کہ مرنے کے بعد میری خیر نہیں ضرور کسی جون میں پڑوں گا۔ کیونکہ پر میشر تو غفور و رحیم نہیں اور ایک گنہ کے بدلے لاکھوں جونوں کی سزا تیار اور گنہ سے تو کوئی فرد بشر خالی نہیں کیونکہ ایک دم غافل رہنا بھی گناہ ہے۔ اب اس تقریر سے یہ بھی ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کو ماننے کے ساتھ اس کا خالق اور رحیم اور کریم ما نالازم ملزوم پڑا ہوا ہے پس اس سے عمدہ تر خدا تعالیٰ کی عام خالقیت پر اور کیا دلیل ہوگی کہ وہ خدا ہی اسی حالت میں رہ سکتا ہے کہ جب اس کو تمام عالم کا خالق مانا جائے ورنہ نہیں۔ پھر ایک دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ اگر ہم اس کو تمام عالم کا خالق نہ مانیں بلکہ جزوی طور پر صرف خود بخود موجود چیزوں کو جوڑنے جاڑنے والا سمجھے لیں تو اس کے وجود پر کوئی دلیل قائم نہیں ہوسکتی کیونکہ جب اصل وجود اشیاء کا جو ہزاروں صنعتوں سے بھرا ہوا ہے خود بخود ٹھہرا تو پھر اس پر کیا دلیل ہے کہ اُن کے جوڑنے جاڑنے کے لئے پر میشر کی حاجت ہے۔ یہ سارا بیان رسالہ سرمہ چشم آریہ میں یہ بسط تمام مندرج ہے۔ دوسری دلیل روحوں کے غیر مخلوق ہونے پر اس عقلمند نے دیکھی ہے کہ جب کہ روحوں پر عدم نہیں تو حدوث بھی لازم نہیں ہوتا لیکن یہ بھی دعوی ہے کہ جس پر کوئی دلیل نہیں اس قدر تو سچ ہے کہ آریوں کے نزدیک تمام روحیں یہاں تک کہ وہ کیڑے جو نجاست میں پڑ جاتے ہیں جیسے جوں اور پٹو اور کھٹمل اور دیمک وغیرہ سب لازوال روحیں