شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 443 of 548

شحنۂِ حق — Page 443

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۲۹ شحنه حق مبدء فیض وجود ہے جس کے ہاتھ سے سب وجودوں کا نمود ہے اسی سے اس کا استحقاق معبودیت پیدا ہوتا ہے اور اسی سے ہم بخوشی دل قبول کرتے ہیں کہ اس کا ہمارے بدن و دل و جان پر قبضہ استحقاقی قبضہ ہے کیونکہ ہم کچھ بھی نہ تھے اسی نے ہم کو وجود بخشا ۔ پس جس نے عدم سے ہمیں موجود کیا وہ کامل استحقاق سے ہمارا مالک ہے۔ اب حاصل کلام یہ کہ سب ارواح اور ذرات عالم کو غیر مخلوق اور انادی مان کر اور با ایں ہمہ خدا تعالیٰ کو رحم کرنے سے بھی خالی سمجھ کر ایک ذرہ استحقاق الوہیت اس کا ثابت نہیں ہوتا ۔ بلکہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس کا روحوں پر قبضہ ایک ناجائز قبضہ ہے کہ بجز جبر اور ظلم کے اور کوئی وجہ اس قبضہ کی پائی نہیں جاتی اور تطاول علم بھی حد سے بڑھا ہوا ہے ۔ کیونکہ جن چیزوں کو اس نے اپنے ہاتھ سے پیدا نہیں کیا ۔ جن پر ایک ذرہ رحم نہیں کر سکتا ان کو بے انتہا زمانہ سے بے وجہ و بے سبب تناسخ کی گردش اور ہزاروں دکھوں میں ڈال رکھا ہے ایک دفعہ مکتی دے کر اور اس امتحان گاہ میں پاس کر کے پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑتا پھر ناکردہ گناہ بار بار مکتی خانہ سے باہر نکالتا ہے 21 کیا کوئی ایسا دل ہے کہ ایسے سخت طبع پر میشر سے بیزار نہ ہو ۔ ایسی سختی وہ کیوں کرتا ہے شاید اس کا یہ سبب ہو کہ کوئی ایسا زمانہ بھی گزرا ہو کہ روحوں نے بھی غالب آ کر اس پر کوئی سختی کی ہو ۔ جس طرح اول اول راجہ راون راجہ رام چندر پر غالب آ گیا تھا اور رام چندر کو اس سے بہت کچھ قابل شرم دکھ پہنچا تھا ۔ سو اسی طرح ممکن ہے کہ ایسا ہی پر میشر کو بھی کسی زمانہ میں روحوں سے بہت دلآزار دکھ پہنچا ہو سو آج وہ انہیں ظالم روحوں سے اپنی کسریں نکال رہا ہے اور جس طرح رام چندر نے فتح یاب ہو کر لنکا کو جلا دیا تھا یہی ارادہ پر میشر کا بھی ہندوؤں کے ساتھ معلوم ہوتا ہے