شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 548

شحنۂِ حق — Page 425

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۱۱ شحنه حق وغیرہ کو آگ پر ڈالنے سے آگ میں سے اٹھتے ہیں اور ہوا میں جا ملتے ہیں ۔ جو وایو دیوتا ہے اور پھر اندر دیوتا یعنی کرہ زمہر یر تک اس کا اثر پہنچتا ہے اور پھر دھرتی دیوتا پر اس کا اثر پڑتا ہے۔ یہ تو اس شرقی کا مضمون ہے اور لفظی صنعت اس میں یہ ہے کہ آگ کو جس کا رنگ تاباں و درخشاں ہے رتنا رہا تما یعنی جواہر دار قرار دے دیا ہے کیونکہ آگ کی چمک کو جواہرات کی چمک سے ایک مناسبت ہے گویا اگئی ایک جو ہر دار اور دولت مند دیوتا ہے جس کے پاس اس قدر جواہر ہیں جو دوسرے دیوتاؤں کو نذریں دیتا ہے ۔ اب میں کہتا ہوں کہ یہ تناسب شاعرانہ تو سب ہوئے مگر کیا اس شرقی میں پر میشر کا کہیں ذکر بھی ہے اے آر یو کچھ انصاف کرو ایما نا اپنی کانشنس سے ہی پوچھ کر دیکھو کہ بجز اس با قرینہ معنوں کے کوئی اور بھی اس کے معنے بن سکتے ہیں ہر گز نہیں بن سکتے کیونکہ اگر اگنی سے پر میٹر مراد ہے تو پھر وہ دوسرے دیوتے کون سے ہیں جن کو پر میشر نذریں پہنچاتا ہے اور نیز اس صورت میں شعر کا بھی ستیا ناس ہو جائے گا کیونکہ اس نازک خیال شاعر نے آگ کو باعتبار چمکتے ہوئے رنگ کے ایک جواہر دار سے تشبیہ دی ہے جیسا کہ آگ کو جواہر تاباں سے اور شاعر بھی تشبیہ دیتے آئے ہیں ۔ شیخ سعدی مرحوم نے بھی ایک شعر میں آتش کو جواہرات سے تشبیہ دے دی ہے ۔ پس اگر ہم اگنی سے مراد آگ نہ لیں بلکہ پر میشر مراد لیں تو اس ساری لطافت کی مٹی پلید ہو گی لیکن ہم کسی طرح اگنی سے مراد پر میشر نہیں لے سکتے کیونکہ اس سے آگے آنے والی شرتیوں سے اور بھی دیدوں کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے ۔ دیکھو اسی اگنی کی دوسری تعریف