شحنۂِ حق — Page 413
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۹۹ شحنه حق اُس کو ہر یک نظر اور فکر کی حدود معلوم ہیں ۔ کیا جس نے یہ کہا کہ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ الجز و ۲۶ - کہ میں انسان سے ایسا نز دیک ہوں (20) کہ ایسی اس کی رگ جان بھی نہیں ۔ کیا جس نے یہ فرمایا کہ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحيطات الجزو نمبر ۵ که خدا وہ ہے جو ہر یک چیز پر احاطہ کر رہا ہے۔ کیا ایسی پاک اور کامل کی نسبت کوئی عقلمند شبہ کر سکتا ہے کہ اس نے خدا کو جسم اور جسمانی ٹھہرا کر بڑمرہ عالمین داخل کر دیا ہے ۔ مگر جو کچھ ویدوں پر وارد ہوتا ہے میں نہیں جانتا کہ آریہ لوگ اس کا کیا جواب دے سکتے ہیں ۔ ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں کہ ویدوں کی رو سے خدا تعالیٰ ایک بار یک جسم ہے جو شبنم کی طرح زمین پر گرنے کے قابل ہے اور انشاء اللہ گوید کی اور کئی شہر تیاں بھی بطور نمونہ لکھی جائیں گی اور چونکہ خداوند کریم نے لاکھوں دلوں میں ہماری نسبت اخلاص اور محبت کو ڈال دیا ہے یہاں تک کہ امریکہ اور یورپ کے ملکوں میں بھی بہت سی شہرت دے کر کئی نیک خیال اور بہت عمدہ سنسکرت دان لوگوں کو اس طرف رجوع دے دیا ہے اس لئے ہمارا یہ بھی ارادہ ہے کہ اگر چہ کچھ بھی ضرورت نہیں مگر ان دوستوں کی امداد سے اس کاگ بھاشا یعنی سنسکرت کی اصل شرتیاں اور نیز انگریزی عبارت بھی جو ویدوں کا ترجمہ ہے کبھی کبھی رسالہ میں درج ہوا کرے کیونکہ بہت سے قابل آدمی اس خدمت کے لئے بھی موجود ہیں اگر چہ ہم ایسا کرنے کو مستعد ہیں اور توفیق الہی نے سارا سامان اس کا مہیا کر دیا ہے مگر پھر بھی آریوں پر ہرگز امید نہیں کہ وہ اپنے بد نام کنندہ تعصب کا منہ کالا کر کے انصاف کی طرف قدم اٹھاویں کیونکہ صریح دیکھا جاتا ہے کہ جن انگریزوں نے سنسکرت میں ق :۱۷ النساء : ۱۲۷