شحنۂِ حق — Page 412
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۹۸ شحنه حق ہاں کچھ اینٹیں رہ گئیں جن کو چوروں نے اپنی مرضی کے موافق جس جگہ چاہا رکھا۔ درختوں کا بھی یہی حال ہوا کیونکہ وہ گر جانے سے بجز جلانے کے اور کسی لائق نہ رہے ۔ اب بیابان سنسان پڑی ہے بجز نا لائق چوروں کے اور کوئی سچا خادم بھی نہیں اور خود مسمار شدہ گھر اور گرے ہوئے باغ میں بچے خادم کا کیا کام ۔ خیر عیسائیوں کی خرابیوں کا تو اس جگہ ذکر کرنا موقعہ نہیں صرف آریوں کے تعصبات کو دکھلا نا منظور ہے ۔ میں نے آج تک کسی کی جہالت پر ایسا تعجب نہیں کیا اور نہ کسی کے تعصب سے میں ایسا حیرت زدہ ہوا جیسا ان سو جا کھے آریوں کے قول سے کہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کو جسم اور جسمانی بتلاتا ہے اور تنزیہ کی آیت کو ئی نہیں ۔ کیسے اندھے ہیں کیا وہ جو اپنے کلام کے شروع میں ہی اپنی ذات کو عالمین سے برتر اور ان کا رب بتلاتا ہے وہ اس بات کا قائل ہو سکتا ہے کہ میں عالمین میں داخل اور جسم اور جسمانی ہوں ۔ پھر میں کہتا ہوں کہ کیا جس کی تعلیم اس قدر عالی ہے کہ أَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ ۖ فرماتا ہے کہ جدھر منہ پھیر و اُدھر ہی خدا ہے۔ کیا وہ جو کہتا ہے کہ اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ کے نمبر ۱۸ کہ اس کا نور قدرت ساری زمین و آسمان اور ذرہ ذرہ کے اندر چمک رہا ہے۔ کیا وہ جو فرما رہا ہے کہ الله لا اله الا هو الحى القيوم الجزو نمبر ۳ ۔ کہ وہی معبود برحق ہر یک چیز کی جان اور هر یک وجود کا سہارا ہے ۔ کیا وہ جو بتلا رہا ہے کہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ " الجز و نمبر ۲۵ - لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ کہ اس کی مانند کوئی بھی چیز نہیں بصارتیں اور بصیرتیں اس کی کنہ کو نہیں پہنچ سکتیں اور البقره: ١١٦ النور : ٣٦ ال عمران ۳ الشورى : ١٢ الانعام : ۱۰۴