شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 548

شحنۂِ حق — Page 411

روحانی خزائن جلد۲ ۳۹۷ شحنه حق ایسا لفظ ہے جو ہر یک فلسفی اور حکیم اس کے یہی معنے لیتا ہے اور قرآن شریف کی عام اصطلاح میں اوّل سے اخیر تک یہی معنے اس کے لئے گئے ۔ اور دنیا کی تمام پابند الہامی کتابوں کے بجز ترے اندھوں کے یہی معنے لیتے ہیں ۔ سو اس فاش غلطی سے آریوں کی دماغی روشنی کی حقیقت کھل گئی ۔ اب ایک چکو پانی میں ڈوب مریں کہ ایسی فاش غلطی کھائی ۔ ہم انشاء اللہ رسالہ قرآنی طاقتوں کے جلوہ گاہ میں یہ ثابت کر کے دکھلائیں گے کہ وید تو خود دشمن صفات الہی ہیں اور کوئی دوسری کتاب بھی ایسی نہیں جو صفات الہی کے پاک بیان میں قرآن شریف کا مقابلہ کر سکے ۔ ہاں بائیبل میں کچھ صداقتیں تھیں مگر عیسائیوں اور یہودیوں کی خائنانہ دست اندازیوں نے ان کے خوبصورت چہرہ کو خراب کر دیا ۔ اب قرآن شریف کی تو یہ مثال ہے کہ جیسی ایک نہایت عالی شان عمارت ہو جس میں ہر ایک ضروری مکان قرینہ سے بنا ہوا ہے نشست گاہ الگ ہے باورچی خانہ الگ ۔ خواب گاہ الگ ۔ غسل خانہ الگ ۔ اسباب خانہ الگ ۔ اردگرد نہایت خوشنما باغ اور نہریں جاری اور دیانتدار خادم اور محافظ جابجا موجود ۔ لیکن بائبل کی یہ مثال ہے کہ (۵۴) اگر چہ ابتدائی زمانہ میں کسی قدر اپنے اندازہ پر اس کی بھی عمارت عمدہ تھی ضرورت کے مکان اور کوٹھریاں اور نشست گاہ وغیرہ بنی ہوئی تھیں ایک باغیچہ بھی اردگرد تھا۔ اتنے میں ایک ایسا زلزلہ آیا کہ مکان بیٹھ گیا۔ درخت اکھڑ گئے ۔ نہروں اور صاف پانی کا نشان نہ رہا۔ اور امتداد زمانہ سے بہت سا کیچڑ اور گندگی اینٹوں پر پڑ گئی ۔ اور اینٹیں کہیں کی کہیں سرک گئیں ۔ وہ قرینہ کی عمارت اور اپنے اپنے موقعہ پر موزون اور پاکیزہ مکان جو تھے وہ سب نابود ہو گئے ۔