شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 548

شحنۂِ حق — Page 407

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۹۳ شحنه حق دکھلانا ہے تو اس کی ایسی ذاتی خوبیاں اور اندرونی خاصیتیں اور برکتیں دکھلاؤ جن کی وجہ سے وہ ایسا بے نظیر ہو جیسا کہ خدا تعالیٰ بے نظیر ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جو چیز خدا تعالیٰ سے صادر ہے اس کی مثل بنانے پر کوئی بشر قادر نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ ایک مکھی کے بنانے سے بھی تمام مخلوق عاجز ہے۔ دوسرے ہمیں یہ بھی صریح نظر آتا ۵۱) ہے کہ خدا تعالیٰ نے صرف اپنے قول میں نہیں بلکہ اپنے فعل میں بھی اپنے ارادوں کو ظاہر کیا ہے۔ سو قول اور فعل کا تطابق بھی ضروری ہے۔ تیسرے ہم یہ بھی وجدان کے طور پر پاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنی پاک اور کامل صفتوں کی طرف ہمیں بھی ا یک روحانی میلان بخشا ہے یا یوں کہو کہ باطنی طور پر ایک قوت حاسہ ہمیں عطا کی گئی ہے جس سے ہم فی الفور معلوم کر جاتے ہیں کہ کون سی صفات خدا کی شان کے لائق ہیں اور کون کون سی صفتیں منافی الشان الوہیت ہیں سور بانی کلام کی شناخت کرنے کے لئے یہی تین علامتیں ہیں مگر کیا یہ علامتیں ویدوں میں پائی جاتی ہیں ۔ ہرگز نہیں ۔ پنڈت دیا نند جنہوں نے نرکت اور نکھٹو کی معتبر کتب کا چھان بین کیا ہے ان کو وید کا یہ خلاصہ ہاتھ لگا کہ جس چیز کو پر میشر کہا جاتا ہے وہ کروڑ با قدیم اور انا دی اور غیر مخلوق وجودوں میں سے ایک وجود ہے جو وجوب ہستی میں ان سے مساوی اور قدیم ہونے میں ان کے برابر اور باعتبار وجودی انتشار کے ان سے نہایت کم ہے اب ہم دیا نند کو آفرین نہ کہیں تو اور کیا کہیں جس نے ویدک تو حید ا یسی ثابت کی کہ پورا نے مشرکوں کے بھی کان کاٹے ۔ کیونکہ گو قدیم مشرک ویدوں کے ماننے والے اب تک یہ تو مانتے آئے تھے کہ ہمارے ویدوں میں سورج چاند اگنی اور بشن وغیرہ کی ضرور پوجالکھی ہے اور ان سے مرادیں مانگنے کا حکم ہے ۔