شحنۂِ حق — Page 405
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۹۱ شحنه حق رہی ہے مگر اس روز نامہ میں اس واقعہ طویلہ کی نسبت جس نے ڈیڑھ صدی ختم کے اشارہ تک بھی پایا نہیں جاتا تو پھر کیا اس بیہودہ اور پر فریب جعل کا نام روز نامچہ رکھنا چاہیے انگلستانی مؤرخوں نے بڑی تحقیقات کر کے ثابت کیا ہے کہ ویدوں کا زمانہ چار ہزار برس کے اندر اندر پایا جاتا ہے اور میری دانست میں ویدوں کا زمانہ معلوم کرنے کے لئے خود ویدوں کا ہی غور سے پڑھنا کافی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہندو لوگ تاریخ کے بہت کچے ہیں اور جھوٹ بولنا اور لاف مارنا اور مبالغہ کرنا شاید ان کے مذہب میں ثواب میں داخل ہے کیونکہ کوئی قول وفعل ان کا دروغ گوئی یا بیہودہ مبالغات سے خالی نہیں پایا جاتا ۔ چنانچہ مہا بھارت ۔ رامائن ۔ بھا گوت ۔ منو شاستر اور دوسرے پرانوں اور خود ویدوں کے پڑھنے سے یہ عادت ان کی صاف ثابت ہوتی ہے۔ بالآ خر اگر ہم اس قدر صاف اور روشن ثبوتوں سے قطع نظر کر کے فرض کے طور پر مان بھی لیں کہ وید کسی قدر پرانے ہیں تو کیا بغیر ثابت ہونے ذاتی خوبیوں کے صرف کسی قدر پرانا ہونا ان کو خدا تعالی کا کلام بنا دے گا ہر گز نہیں ۔ ظاہر ہے کہ بزرگی بعقل است نہ بسال ۔ حکماء جنہوں نے علم حیوانات میں تحقیق کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ سنگ پشت یعنی کچھوے کی عمر بڑی ہوتی ہے یہاں تک کہ بغیر کسی خارجی صدمہ کے شاذ و نا در مرتا ہے ۔ بہت کچھوے ایسے ہوں گے کہ جو ابتدائی زمانہ میں پیدا ہو کر اب تک زندہ موجود ہیں ۔ پس اگر ویدوں کی قدامت بغیر ثبوت ان کے اندرونی کمالات کے تسلیم بھی کر لی جائے تو غایت درجہ ان کا مرتبہ ایک کچھو کی مانند ہوگا ۔ غرض صرف پیرانہ سالی فضیلت پر ہرگز دلیل