شحنۂِ حق — Page 388
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۷۴ شحنه حق حقیقت سے فیض یافتہ اور اُسی دریائے معرفت سے قطرہ بر دار ہے اب یہ ہند و روشن چشم جو اس الہی کا روبار کا نام فریب رکھ رہا ہے اس کے جواب میں لکھا جاتا ہے کہ ہر چند اب ہمیں فرصت نہیں کہ بالمواجہ آزمائش کے لئے ہر روز نئے نئے اشتہار جاری کریں ۔ اور خود رسالہ سراج منیر نے ان متفرق کا رروائیوں سے ہمیں مستغنی کر دیا ہے لیکن چونکہ اس دز دمنش کی رو بہ بازیوں کا تدارک از بس ضروری ہے جو مدت سے بُرقع میں اپنا مونہہ چھپا کر کبھی اپنے اشتہاروں میں ہمیں گالیاں دیتا ہے کبھی ہم پر تہمتیں لگا تا ہے اور فریبوں کی طرف نسبت دیتا ہے اور کبھی ہمیں مفلس بے زر قرار دے کر یہ کہتا ہے کہ کس کے پاس مقابلہ کے لئے جاویں وہ تو کچھ بھی جائداد نہیں رکھتا ہمیں کیا دے گا کبھی ہمیں قتل کرنے کی دھمکی دیتا ہے اور اپنے اشتہاروں میں ۲۷ ۔ جولائی ۱۸۸۶ء سے تین برس تک ہماری زندگی کا خاتمہ بتلاتا ہے۔ ایسا ہی ایک بیرنگ خط میں بھی جو کسی انجان کے ہاتھ سے لکھایا گیا ہے جان سے مار دینے کے لئے ہمیں ڈراتا ہے لہذا ہم بعد اس دعا کے کہ یا الہی تو اس کا اور ہمارا فیصلہ کر اس کے نام یہ اعلان جاری کرتے ہیں اور خاص اُسی کو اس آزمائش کے لئے بلاتے ہیں کہ اب بُرقع سے مونہہ نکال کر ہمارے سامنے آوے اور اپنا نام و نشان بتلاوے اور پہلے چند اخباروں میں شرائط متذکرہ ذیل پر اپنا آزمائش کے لئے ہمارے پاس آنا شائع کر کے اور پھر بعد تحریری قرار داد چالیس دن تک امتحان کے لئے