شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 548

شحنۂِ حق — Page 387

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۷۳ شحنه حق کیا ایسی استقامت کی بنیا د صرف لاف و گزاف کا خس و خاشاک ہے کیا تمام جہان کے مقابل پر ایسا دعوئی وہ مکا ر بھی کر سکتا ہے کہ جو اپنے دل میں جانتا ہے کہ میں جھوٹا ہوں ۔ اور خدا میرے ساتھ نہیں افسوس آریوں کی عقل کو تعصب نے لے لیا ۔ بغض اور کینہ کے غبار سے ان کی آنکھیں جاتی رہیں ۔ اب اس روشنی کے زمانہ میں وید کو خدا کا کلام بنانا چاہتے ہیں نہیں جانتے کہ اندر اور اگنی کا مدت سے زمانہ گزر گیا ۔ کوئی کتاب بغیر خدا ئی نشانوں کے خدا تعالیٰ کا کلام کب بن سکتی ہے اور اگر ایسا ہی ہو تو ہر ایک شخص اٹھ کر کتاب ﴿۳۷﴾ بنا دے اور اس کا نام خدا تعالیٰ کا کلام رکھ لیوے ۔ اللہ جل شانہ کا وہی کلام ہے جو الہی طاقتیں اور برکتیں اور خاصیتیں اپنے اندر رکھتا ہے ۔ سو آ ؤ جس نے دیکھنا ہو دیکھ لے وہ قرآن شریف ہے جس کی صد ہا روحانی خاصیتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سچے پیرو اس کے ظلی طور پر الہام پاتے ہیں اور تادم مرگ رحمت اور برکت ان کے شامل ہوتی ہے ۔ سو یہ خاکسار اسی آفتاب بقیه حاشیه بابت بہت کچھ پڑھا ہے اور کسی قدر تعلیمات زردشت و کنفیوشس کا مطالعہ بھی کیا ہے لیکن محمد صاحب کی بابت بہت کم ۔ میں راہ راست کی نسبت ایسا منذ بذب رہا ہوں اور اب بھی ہوں کہ گو میں عیسائی گروہ کے ایک گرجا کا امام ہوں مگر سوائے معمولی اور اخلاقی نصیحتوں کے اور کچھ سکھلانے کے قابل نہیں ۔ غرض میں سچ کا متلاشی ہوں اور آپ سے اخلاص رکھتا ہوں ۔ آپ کا خادم الیگزنڈر آروب ۔ پتہ - ۳۰۲۱۔ اسٹرن او نیوسینٹ لوئس مسوری اضلاع متحدہ امریکہ