شحنۂِ حق — Page 373
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۵۹ شحنه حق بھی اپنے پہلے جنم میں ضرور مرغ ہی ہو اور جونک کا بچہ اپنے پہلے جنم میں جونک ہی ہونہ اور کچھ اور کھی کا بچہ اپنے پہلے جنم میں لکھی ہی ہو نہ کچھ اور کیونکہ یہ سب مختلف قسم کے جاندار پیدا ہونے کے بعد اسی طور اور اسی قسم کی غذا کو طلب کرتے ہیں جو ان کی نوع کے لئے مقرر ہے۔ اب دیکھا ویدک فلاسفی کی کیسی قلعی کھل گئی اب ہم اگر ایسی فلاسفی کو دور سے سلام نہ کریں تو اور کیا کریں کیوں لالہ صاحب؟ یہ وہی ویدوں کے علوم ہیں جن سے تمام دنیا فیض یاب ہوئی ہے۔ روح کا شبنم کی طرح زمین پر گرنا اور پھر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر کسی گھاس پات پر پھیلنا اور پھر وہی بچہ پیدا ہونے کا موجب ہونا جیسا کہ رسالہ سرمہ چشم آریہ کے صفحہ ۷۳ میں اور صفحہ ۲۶۳ ستیارتھ پر کاش میں مفصل درج ہے یہ ویدوں کے ذریعہ سے ہی علوم وفنون حاصل ہوئے ہیں عجیب تر یہ کہ ایسی بوٹیوں کو شوہر دار عورتیں ہی کھاتی ہیں کبھی باکرہ اور عقیمہ عورتیں یا مرد نہیں کھا لیتے تا ان سب کو حمل ٹھہر جائے ایسی گھاس پات کو دیا نند بھی کھا لیتا تو ایک تماشا ہوتا اور ویدوں کے گن خوب ظاہر ہوتے قربان جائیں ایسے ویدوں پر بھلا کس حکیم یا فیلسوف کی بلا کو بھی خبر تھی کہ روح بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر سبز کھیتوں پر پڑا کرتی ہے اور پھر وہ سب ٹکڑے کوئی عورت کھا جاتی ہے اس سے حمل ہوتا ہے مردوں کو ایسی روحانی غذا سے کچھ حصہ نہیں یوں ہی بلا (۲۳) دلیل بچوں کو اپنے باپوں سے اخلاق وغیرہ میں روحانی مشابہت ہوتی ہے اس سے بڑھ کر ویدوں کے جامع العلوم ہونے پر اور کیا دلیل ہو ۔ گوتم رکھی جو ویدوں کو سراسر دوراز صداقت اور طفلانہ خیالات سمجھتا تھا کیا یہ حکمت کی باتیں اس کو نہ ملیں تا وہ بھی ان پر فدا ہو جاتا ۔ دیکھو بدھ شاستر (ادھیا ۲ سوتر ۱ ) دیا نند کو بھی مچھلی کی طرح پتھر چاٹ کر اخیر پر یہ کہنا پڑا کہ اب میرا ایمان ویدوں پر نہیں رہا۔ دیکھو پر چہ دھرم جیون ۱۸۵۶اء