شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 548

شحنۂِ حق — Page 368

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۵۴ شحنه حق حقیقوں سے پر ہے اور جو کچھ صانع نے جس جس جگہ رکھا ہے نہایت ہی موزوں اور جواہرات حکمت و معقولیت سے بھرا ہوا ہے مگر ان کو ر باطنوں کی نظر میں یہ سب کچھ صرف گزشتہ جنموں کے نتائج کا ایک گڑ بڑ ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں اور پر میشر ایسا لا حاصل اور بے کا راور ایک فضول اور بے نفع وجود ہے کہ نہ تو کبھی رحم اور فضل اور کرم اس سے ظہور میں آیا اور نہ کبھی اس کو اپنی حکمت و قدرت دکھلانے کا موقع ملا اور نہ کبھی اس نے اپنے وجود میں طاقت پائی کہ اپنی خدائی کے نشان ظاہر کرے ۔ عقل تو پکار پکار کر کہتی ہے کہ یہ سب چیزیں خدائے تعالیٰ کے ملنے کا ہمارے لئے راہ بتانے والیں اور اس کے احسانات کا ایک رشتہ قائم کرنے والی ہیں مگر ان کا وید کہتا ہے کہ یہ کچھ بھی نہیں یہ سب کچھ اتفاقی ہے جو گزشتہ جنموں کی شامت سے ظہور پذیر ہو رہا ہے ورنہ ایک قطرہ پانی کا بھی جس میں صد ہا کیڑے ہیں پر میشر کی طرف سے عطا نہیں ہوا بلکہ خود ان کیڑوں کی کسی پہلے زمانہ کی اپنی ہی بد اعمالی پانی کے وجود اور ہماری آب نوشی کا باعث ہو گئی ہے ۔ اب جن کے پر میشر کا یہ حال ہو کہ ایک قطرہ پانی پر بھی اختیار نہیں کہ خود بخود پیدا کر سکے تو کیا ایسے ضعیف اور ناتواں کا نام پر میشر رکھنا جائے عا ر ہے یا نہیں اور ایسا بد نصیب پر میشر کس تعریف اور شکر گزاری یا کسی مدح و ثنا کے لائق ہو گا ۔ جس کی ملکیت ایک بوند پانی بھی نہیں ۔ ہائے افسوس ان لوگوں نے الہی قدرتوں اور حکمتوں اور صنعتوں کو اواگون اور وید کی محبت میں پھنس کر کیسا خاک میں ملا دیا ہے ۔ صرف ایک تناسخ کے بیہودہ خیال سے ہزار ہا صداقتوں کا خون کرتے جاتے ہیں اور فلسفی اور