شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 367 of 548

شحنۂِ حق — Page 367

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۵۳ شحنه حق کہ جب بالک پیدا ہوتا ہے تو اسی وقت اپنی ماں کا دودھ پینے لگتا ہے۔ سبب یہ کہ اس کو پہلے جنم کا خیال بنا رہتا ہے پس اس سے ثابت ہو گیا کہ تاریخ سچ ہے۔ تعجب کہ ایسے تیز عقل پنڈت نے کیوں حیض کے خون کو بھی جو پیٹ کے اندر بچہ کی خوراک بنتا ہے اسی پہلے جنم کی یادداشت پر دلیل نہ ٹھہرائی تا بجائے ایک کے دو دلیل مل جاتیں۔ افسوس یہ لوگ تناسخ کے جال میں پھنس کر اور جونوں کے خیال محال میں مبتلا ہو کر ایسے اس میں مدہوش ہوئے کہ پھر کسی چیز نا معلوم الاسباب کا سچا سبب تلاش کرنے کے عادی ہی نہ رہے اور ویدوں کی گمراہ کنندہ تعلیموں نے ہزاروں عمدہ اور دلر با فلسفی نکتوں سے ان کا منہ پھیر کر بار بار آواگون کے ہی گڑھے میں ڈالا اور سارے عالم کے تعلیم خانہ میں سے صرف یہی ایک غلط حرف ان کے دل میں بیٹھ گیا کہ دنیا کا وجود اور زمین و آسمان کا نمود فقط انسانی علموں کی شامت سے ہے نہ کسی صانع کی حکمت کا ملہ سے اگر بدکاریاں اور بدعملیاں نہ ہوں تو پھر گائے بیل وغیرہ انسانی ضرورت کی چیزیں بھی نہ ہوں بلکہ خود انسان میں سے عورت کی قسم بھی نہ ہوسو اسی وجہ سے یہ لوگ حکیمانہ اور باقاعدہ تحقیقاتوں سے ہمیشہ انحراف اختیار کر کے بلکہ اس مذاق سے بالکل خالی اور بے بہرہ اور سادہ لوح رہ کر اپنی زندگی کے قابل تفتیش راز اور دوسرے تمام مخلوقات کے بے انتہا اسرار کو یوں ہی کسی گزشتہ (۲۰) جنم کی شامت اعمال یا نکوئی افعال پر حمل کر کے پھر آئندہ اس میں کچھ جستجو ہی نہیں کرتے اور اس طرح پر ایک جھوٹے اور بے اصل خیال کو مضبوط پکڑنے سے نہایت سچی اور صحیح صداقتوں کے قبول کرنے سے محروم اور بے نصیب رہ جاتے ہیں ہر چند اس عالم کا ہر ایک جوہر اور عرض ہزار ہا بار یک حکمتوں اور لطیف بھیدوں اور سہو کتابت معلوم ہوتا ہے عملوں “ہونا چاہیے۔(ناشر)