شحنۂِ حق — Page 363
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۴۹ شحنه حق جرائم سے جن میں اس قسم کے یا وہ لوگ اکثر پھنس جایا کرتے ہیں اسے اندیشہ کرنا چاہیے۔ ہر چند ہم نے سید صاحب ممدوح کی خدمت میں بانکسار عرض کر دیا ہے کہ آپ ایسے نا اہلوں کی دل آزار باتوں کو دل میں جگہ نہ دیں اور صبر و شکیب کو کام فرمائیں جیسا کہ طیبین طاہرین آل رسول کریم قدیم سے کرتے چلے آئے ہیں اور یہی سید صاحب کی ذات ستودہ صفات پر امید بھی ہے کیونکہ وہ نہایت شریف اور مہذب اور علوم وفنون سے آراستہ اور بوجہ کامل لیاقت انگریزی دانی کے انگریزی دفتروں کے معزز عہدوں پر بھی سرفراز رہ چکے ہیں اور اشتعالی حالت تو گویا فطرتی طور پر ان کی طبیعت سے مسلوب ہے مگر پھر بھی چونکہ ایک مگس طینت کے قلم کا بخار کبھی کبھی اچھے اچھے قوم کے شریفوں کو بھی ساتھ کھینچ لیا کرتا ہے اس لئے ہم بکمال ادب بخدمت شریف منشی جیوند اس صاحب اور دوسرے معزز آریہ صاحبوں کی محض خیر خواہی کے طور سے عرض پرداز ہیں کہ ایسے خوش لہجہ آریہ کو اس بدزبانی کی دھن سے روک دیں کہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں اور گو ہماری ذات کی نسبت کوئی شخص برا کہے یا بھلا افترا پردازیاں کرے یا جعل سازیاں اسے اختیار ہے کیونکہ ہم مجازی حکومتوں کی طرف رجوع کرنا نہیں چاہتے اور اپنا اور اپنے بدگو کا فیصلہ احکم الحاکمین پر چھوڑتے ہیں۔ لیکن ان نوخیزوں کو جو اپنی ہر یک تحریر میں آریوں کی نئی تہذیب کا چاند چڑھا رہے ہیں دوسرے رئیسوں اور شریفوں اور معزز مسلمانوں کی ہتک اور تو ہین سے پر خطر رہنا چاہیے تا کسی بیچ میں آکر بڑے گھر کی ہوا نہ کھانی پڑے کیا بحث اسی بات کا نام ہے کہ گند بولیں اور مخش تو لیں غرض ہر ایک منہ بگڑے اور بے راہ کے لئے قانونی تدارک موجود ہے۔ آئندہ صفتار بدست مختار۔ سرمہ نہ پتہ قوله سرمہ چشم آریہ میں نہ ہماری کسی کتاب کا حوالہ ہے نہ فصل و باب کا پتہ ہے۔ اقول ۔ کتنا جھوٹ ہے ۔ جس شخص کی دروغ گوئی اس حد کو پہنچ جائے تو اسے حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے اختیار ہونا چاہیے۔ (ناشر)