شحنۂِ حق — Page 340
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۲۶ شحنه حق کسی لڑکے بدخط سے لکھائے جاتے ہیں عبارت وہی معمولی ان گندہ زبان آریوں کی ہوتی ہے اور خط بچوں کا سا۔ ہم نہیں جانتے کہ ہم نے ان کا کیا گناہ کیا ہے راستی کو تہذیب اور نرمی سے بیان کرنا ہمارا شیوہ ہے ہاں چونکہ یہ لوگ کسی طور سے ناراستی کو چھوڑ نا نہیں چاہتے اس لئے سچ کہنے والے کے جانی دشمن ہو جاتے ہیں سو چونکہ ہمارے نزدیک کلمہ حق سے خاموش رہنے اور جو کچھ خدائے تعالیٰ نے صاف اور روشن علم دیا ہے وہ خلق اللہ کو نہ پہنچانا سب گنا ہوں سے بدتر گناہ ہے اس لئے ہم ان کی قتل کی دھمکیوں سے تو نہیں ڈرتے اور نہ بجز ارادہ الہی قتل کر دینا ان کے اختیار میں ہے لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ کسی ظالم آریہ کے اقدام قتل سے ہمارے ہموطن اور ہم شہر آریہ پولیس کی کشاکشی میں پھنس جائیں۔ اس لئے اول تو انہیں ہم یہ نصیحت کرتے ہیں کہ اس سرحدی شخص سے جس کا نام لیکھرام یا لیکھ راج ہے پر ہیز رکھیں ۔ اس کے ساتھ ان کی در پردہ خط وکتابت اچھی نہیں اس کی تحریریں جو ہمارے نام آئی ہیں سخت خطرناک ہیں اور دوسرے ہم یہ بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ اب ہم اپنے پیارے زاد بوم قادیان کو مصلحت مذکورہ بالا کے لحاظ سے چھوڑ دیں اور کسی دور کے شہر میں جا کر مسکن اختیار کریں کیوں کہ جس جگہ میں ہمارا رہنا ہمارے حاسدوں کے لئے دکھ کا موجب ہو ان کا رفع تکلیف کرنا بہتر ہے۔ کیونکہ بخدا ہم دشمنوں کے دلوں کو بھی تنگ کرنا نہیں چاہتے اور ہمارا خدا ہر جگہ ہمارے ساتھ ہے حضرت مسیح علیہ السلام کا قول ہے کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں لیکن میں کہتا ہوں کہ نہ صرف نبی بلکہ بجز اپنے وطن کے کوئی راستباز بھی دوسری جگہ ذلت نہیں اٹھاتا اور اللہ جَلَّ شَانُه فرماتا ہے۔ وَمَنْ يُّهَا جِرْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدُ فِي الْأَرْضِ مُرَغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً لا یعنی جو شخص اطاعت الہی میں اپنے وطن کو چھوڑے تو خدائے تعالی کی زمین میں ایسے آرام گاہ پائے گا جن میں بلا حرج دینی خدمت بجالا سکے ۔ سواے ہم وطنوں ہم تمہیں عنقریب الوداع کہنے والے ہیں۔ ا النساء : ١٠١