شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 502

شہادة القرآن — Page 400

۳۹۸ روحانی خزائن جلد ۶ شهادة القرآن مبارک وہ لوگ جو اپنے تئیں سب سے زیادہ ذلیل اور چھوٹا سمجھتے ہیں اور شرم سے بات کرتے ہیں اور غریبوں اور مسکینوں کی عزت کرتے اور عاجزوں کو تعظیم سے پیش آتے ہیں اور کبھی شرارت اور تکبر کی وجہ سے ٹھٹھا نہیں کرتے اور اپنے رب کریم کو یا در کھتے ہیں اور زمین پر فریبی سے چلتے ہیں۔ سو میں بار بار کہتا ہوں کہ ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لئے نجات طیار کی گئی ہے۔ جو شخص شرارت اور تمبر اور خود پسندی اور غرور اور دنیا پرستی اور لالچ اور بدکاری کی دوزخ سے اسی جہان میں باہر نہیں وہ اس جہان میں کبھی باہر نہیں ہوگا۔ میں کیا کروں اور کہاں سے ایسے الفاظ لاؤں جو اس گروہ کے دلوں پر کارگر ہوں خدایا مجھے ایسے الفاظ عطا فرما اور ایسی تقریریں الہام کر جوان دلوں پر اپنا نور ڈالیں اور اپنی تریاقی خاصیت سے ان کی زہر کو دور کر دیں ۔ میری جان اس شوق سے تڑپ رہی ہے کہ کبھی وہ بھی دن ہو کہ اپنی جماعت میں بکثرت ایسے لوگ دیکھوں جنہوں نے در حقیقت جھوٹ چھوڑ دیا اور ایک سچا عہد اپنے خدا سے کر لیا کہ وہ ہر یک شر سے اپنے تئیں بچائیں گے اور تکبر سے جو تمام شرارتوں کی جڑ ہے بالکل دور جا پڑیں گے اور اپنے رب سے ڈرتے رہیں گے مگر ابھی تک بجز خاص چند آدمیوں کے ایسی شکلیں مجھے نظر نہیں آتیں۔ ہاں نماز پڑھتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ نماز کیا شے ہے ۔ جب تک دل فروتنی کا سجدہ نہ کرے صرف ظاہری سجدوں پر امید رکھنا طمع خام ہے جیسا کہ قربانیوں کا خون اور گوشت خدا تک نہیں پہنچتا صرف تقویٰ پہنچتی ہے ایسا ہی جسمانی رکوع و سجود بھی لیتی ہے جب تک دل کا رکوع وجود و قیام نہ ہو ۔ دل کا قیام یہ ہے کہ اس کے حکموں پر قائم ہو اور رکوع یہ کہ اس کی طرف جھکے اور مجود یہ کہ اس کے لئے اپنے وجود سے دست بردار ہو۔ سو افسوس ہزار افسوس کہ ان باتوں کا کچھ بھی اثر میں ان میں نہیں دیکھتا مگر دعا کرتا ہوں اور جب تک مجھ میں دم زندگی ہے کئے جاؤں گا اور دعا یہی ہے کہ خدا تعالیٰ میری اس جماعت کے دلوں کو پاک کرے اور اپنی رحمت کا ہاتھ لمبا کر کے ان کے دل اپنی طرف پھیر دے اور تمام شرارتیں اور کینے انکے دلوں سے اٹھا دے اور با ہمی کچی محبت عطا کر دے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ دعا کسی وقت قبول ہوگی اور خدا میری دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا ۔ ہاں میں یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ اگر کوئی شخص میری جماعت میں خدا تعالیٰ کے علم اور ارادہ میں بدبخت از لی ہے جس کے لئے یہ مقدر ہی نہیں کہ کچی پاکیزگی اور خدا ترسی اس کو حاصل ہو تو اس کو اے قادر خدا میری طرف سے بھی منحرف کر دے جیسا کہ وہ تیری طرف سے منحرف ہے اور اس کی جگہ کوئی اور لا جس کا دل نرم اور جس کی جان میں تیری طلب ہو ۔ اب میری یہ حالت ہے کہ بیعت کرنے والے سے میں ایسا ڈرتا ہوں جیسا کہ کوئی شیر سے ۔ اسی وجہ سے کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی دنیا کا کیڑا رہ کر میرے ساتھ پیوند کرے۔ پس التواء جلسہ کا ایک یہ سبب ہے جو میں نے بیان کیا ۔