شہادة القرآن — Page 399
۳۹۷ روحانی خزائن جلد ۶ شهادة القرآن جو اس کو نہیں پہچانتے جس کو میں نے پہچانا ہے اور نہ اس کی عظمتیں اپنے دلوں میں بٹھاتے ہیں اور نہ ٹھٹھوں اور بیرا ہیوں کے وقت خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے اور کبھی نہیں سوچتے کہ ہم ایک زہر کھا رہے ہیں جس کا بالضرور نتیجہ موت ہے۔ درحقیقت وہ ایسے ہیں جن کو شیطانی راہیں چھوڑ نا منظور ہی نہیں۔ یادر ہے کہ جو میری راہ پر چلنا نہیں چاہتا وہ مجھے میں سے نہیں اور اپنے دعوئی میں جھوٹا ہے اور جو میرے مذہب کو قبول کرنا نہیں چاہتا بلکہ اپنا مذ ہب پسندیدہ سمجھتا ہے وہ مجھ سے ایسا دور ہے جیسا کہ مغرب مشرق سے۔ وہ خطا پر ہے سمجھتا ہے کہ میں اس کے ساتھ ہوں میں بار بار کہتا ہوں کہ آنکھوں کو پاک کرو اور ان کو روحانیت کے طور سے ایسا ہی روشن کرو جیسا کہ وہ ظاہری طور پر روشن ہیں ظاہری رویت تو حیوانات میں بھی موجود ہے مگر انسان اس وقت سو جا کھا کہلا سکتا ہے جب کہ باطنی رویت یعنی نیک و بد کی شناخت کا اس کو حصہ ملے اور پھر نیکی کی طرف جھک جائے سو تم اپنی آنکھوں کے لئے نہ صرف چار پاؤں کی بینائی بلکہ حقیقی بینائی ڈھونڈ و اور اپنے دلوں سے دنیا کے بہت باہر پھینکو کہ دنیا دین کی مخالف ہے جلد مرو گے اور دیکھو گے کہ نجات انہیں کو ہے کہ جو دنیا کے جذبات سے بیزار اور بری اور صاف دل تھے۔ میں کہتے کہتے ان باتوں کو تھک گیا کہ اگر تمہاری یہی حالتیں ہیں تو پھر تم میں اور غیروں میں فرق ہی کیا ہے لیکن یہ دل کچھ ایسے ہیں کہ توجہ نہیں کرتے اور ان آنکھوں سے مجھے بینائی کی توقع نہیں لیکن خدا اگر چاہے اور میں تو ایسے لوگوں سے دنیا اور آخرت میں بیزار ہوں۔ اگر میں صرف اکیلا کسی جنگل میں ہوتا تو میرے لئے ایسے لوگوں کی رفاقت سے بہتر تھا جو خدا تعالیٰ کے احکام کو عظمت سے نہیں دیکھتے اور اس کے جلال اور عزت سے نہیں کا نچتے اگر انسان بغیر حقیقی راستبازی کے صرف منہ سے کہے کہ میں مسلمان ہوں یا اگر ایک بھوکا صرف زبان پر روٹی کا نام لا وے تو کیا فائدہ ان طریقوں سے نہ وہ نجات پائے گا اور نہ وہ سیر ہوگا ۔ کیا خدا تعالیٰ دلوں کو نہیں دیکھتا۔ کیا اس علیم و حکیم کی گہری نگاہ انسان کی طبیعت کے پاتال تک نہیں پہنچتی۔ پس اے نادانو خوب سمجھو اے ناظوخوب سوچ لو کہ بغیر کچی پاکیزگی ایمانی اور اخلاقی اور اعمالی کے کسی طرح رہائی نہیں اور جو شخص ہر طرح سے گندہ رو کر پھر اپنے تئیں مسلمان سمجھتا ہے وہ خدا تعالی کو نہیں بلکہ وہ اپنے تئیں دھوکا دیتا ﴿۴﴾ ہے اور مجھے ان لوگوں سے کیا کام جو سچے دل سے دینی احکام اپنے سر پر نہیں اٹھا لیتے اور رسول کریم کے پاک جوئے کے نیچے صدق دل سے اپنی گردنیں نہیں دیتے اور راستبازی کو اختیار نہیں کرتے اور فاسقانہ عادتوں سے بیزار ہونا نہیں چاہتے اور ٹھٹھے کی مجالس کو نہیں چھوڑتے اور ناپاکی کے خیالوں کو ترک نہیں کرتے اور انسانیت اور تہذیب اور صبر اور نرمی کا جامہ نہیں پہنتے بلکہ غریبوں کو ستاتے اور عاجزوں کو دھکے دیتے اور اکثر کر بازاروں میں چلتے اور تکبر سے کرسیوں پر بیٹھتے ہیں اور اپنے تئیں بڑا کجھتے ہیں اور کوئی بڑا نہیں مگر وہی جو اپنے تئیں چھوٹا خیال کرے۔