شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 398 of 502

شہادة القرآن — Page 398

۳۹۶ روحانی خزائن جلد ۶ شهادة القرآن سامنے باوجود اپنے ضعف اور بیماری کے زمین پر سوتا ہے اور میں باوجود اپنی صحت اور تندرستی کے چار پائی پر قبضہ کرتا ہوں تا وہ اس پر بیٹھ نہ جاوے تو میری حالت پر افسوس ہے اگر میں نہ انھوں اور محبت اور ہمدردی کی راہ سے اپنی چار پائی اس کو نہ دوں اور اپنے لئے فرش زمین پسند نہ کروں اگر میرا بھائی بیمار ہے اور کسی درد سے لاچار ہے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں اس کے مقابل پر امن سے سور ہوں اور اس کے لئے جہاں تک میرے بس میں ہے آرام رسانی کی تدبیر نہ کروں اوراگر کوئی میرا دینی بھائی اپنی نفسانیت سے مجھ سے کچھ سخت گوئی کرے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں بھی دیدہ و دانستہ اس سے سختی سے پیش آؤس بلکہ مجھے چاہیے کہ میں اس کی باتوں پر صبر کروں اور اپنی نمازوں میں اس کے لئے رو رو کر دعا کروں کیونکہ وہ میرا بھائی ہے اور روحانی طور پر بیمار ہے اگر میرا بھائی سادہ ہو یا کم علم یا سادگی سے کوئی خطا اس سے سرزد ہو تو مجھے نہیں چاہیے کہ میں اس سے ٹھٹھا کروں یا چیں برسیں ہو کر تیزی دکھاؤں یا بد نیتی سے اس کی عیب گیری کروں کہ یہ سب ہلاکت کی راہیں ہیں کوئی سچا مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل نرم نہ ہو جب تک وہ اپنے تئیں ہر ایک سے ذلیل تر نہ سمجھے اور ساری مشیختیں دور نہ ہو جائیں ۔ خادم القوم ہونا مخدوم بننے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہو کر اور بھٹک کر بات کرنا مقبول الہی ہونے کی علامت ہے اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصہ کو کھا لینا اور تلخبات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چار پائی پر بیٹھا ہے تو وہ پوختی سے اس کو اٹھانا چاہتا ہے اور اگر نہیں اٹھا تو چار پائی کو الٹا دیتا ہے اور اس کو نیچے گراتا ہے پھر دوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور وہ اس کو گندی گالیاں دیتا ہے اور تمام بخارات نکالتا ہے یہ حالات ہیں جو اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں تب دل کباب ہوتا اور جلتا ہے اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر میں درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے پھر میں کس خوشی کی امید سے لوگوں کو جلسہ کے لئے اکٹھے کروں۔ یہ دنیا کے تماشوں میں سے کوئی تماشا نہیں ابھی تک میں جانتا ہوں کہ میں اکیلا ہوں بجز ایک مختصر گروہ رفیقوں کے جو دو سو سے کسی قدر زیادہ ہیں جن پر خدا کی خاص رحمت ہے جن میں سے اول درجہ پر میرے خالص دوست اور محبت مولوی حکیم نورالدین صاحب اور چند اور دوست ہیں جن کو میں جانتا ہوں کہ وہ صرف خدا تعالیٰ کے لئے میرے ساتھ تعلق محبت رکھتے ہیں اور میری باتوں اور نصیحتوں کو تنظیم کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کی آخرت پر نظر ہے سو وہ انشاء اللہ دونوں جہانوں میں میرے ساتھ ہیں اور میں ان کے ساتھ ہوں۔ میں اپنے ساتھ ان لوگوں کو کیا سمجھوں جن کے دل میرے ساتھ نہیں یہ باتیں ہماری طرف سے اپنی عزیز جماعت کے لئے بطور نصیحت کے ہیں دوسرا کوئی مجاز نہیں کہ کسی کا نام لے کر ان کا تذکرہ کرے ورنہ وہ سب سے بڑھ کر گناہ اور فتنہ کی راہ اختیار کرے گا۔ حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے جھک “ ہونا چاہیے۔(ناشر)