شہادة القرآن — Page 375
شهادة القرآن روحانی خزائن جلد ۶ تو اسی کے ذیل میں آجاتا ہے باوجود اس کے تمام لوازم موجودہ بلند آواز سے یہی پکار رہے ہیں کہ اس صدی کا مجد و مسیح موعود ہو کیونکہ خدا تعالی کی پاک کلام نے جو مسیح موعود کے زمانہ کے نشان ٹھہرائے تھے وہ سب اس زمانہ میں پورے ہو گئے ہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ عیسائی سلطنت تمام دنیا کی ریاستوں کو گلتی جاتی ہے اور ہر ایک نوع کی بلندی اُن کو حاصل ہے اور مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ بقیہ اپنی نظر اور قسم کی غلطی ہے ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کے صاحب معجزات ہونے سے انکار نہیں بے شک حاشیہ ان سے بھی بعض معجزات ظہور میں آئے ہیں اور گوانجیل کے دیکھنے سے اُن کے معجزات پر بہت کچھ دھبہ لگتا ہے جیسا کہ تالاب کے قصہ اور خود اُن کے بار بار کے انکار سے کہ میں صاحب معجزات نہیں مگر ہمیں انجیل سے کیا کام قرآن کریم سے بہر حال ثابت ہوتا ہے کہ بعض نشان اُن کو دیئے گئے تھے ہاں ہمارے کم توجہ علماء کی یہ غلطی ہے کہ اُن کی نسبت وہ گمان کرتے ہیں کہ گویا وہ بھی خالق العالمین کی طرح کسی جانور کا قالب تیار کر کے پھر اُس میں پھونک مارتے تھے اور وہ زندہ ہو کر اڑ جاتا اور مردہ پر ہاتھ رکھتے تھے اور وہ زندہ ہو کر چلنے پھرنے لگتا تھا اور غیب دانی کی بھی اُن میں طاقت تھی اور اب تک مرے بھی نہیں مع جسم آسمان پر موجود ہیں اور اگر یہ باتیں جو ان کی طرف نسبت دی گئی ہیں صحیح ہوں تو پھر اُن کے خالق العالم اور عالم الغیب اور کئی اموات ہونے میں کیا شک رہا۔ پس اگر اس صورت میں کوئی عیسائی ان کی الوہیت پر استدلال کرے اس بنا پر کہ لوازم نشے کا پایا جانا وجود شے کو مستلزم ہے تو ہمارے بھائی مسلمانوں کے پاس اس کا کیا جواب ہے اگر کہیں کہ دعا سے ایسے معجزات ظہور میں آتے تھے تو یہ کلام الہی پر زیادت ہے کیونکہ قرآن کریم سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ مثلاً پھونک مارنے سے وہ چیز جو ہیئت طیر کی طرح بنائی جاتی تھی اُڑنے لگتی تھی۔ دعا کا تو قرآن کریم میں کہیں بھی ذکر نہیں اور نہ یہ ذکر ہے کہ اس ہیئت طیر میں در حقیقت جان پڑ جاتی تھی ۔ یہ تو نہیں چاہیے کہ اپنی طرف سے کلام الہی پر پکچھ زیادت کریں یہی تو تحریف ہے جس کی وجہ سے یہودیوں پر لعنت ہوئی۔ پھر جس حالت میں جان پڑنا ثابت نہیں ہوتا بلکہ معالم التنزیل اور بہت سی اور تفسیروں سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ بیت طیر تھوڑی دیر اڑ کر پھر مٹی کی طرح زمین پر گر پڑتی تھی تو بجز اس کے اور کیا سمجھا جائے کہ وہ در اصل مٹی کی مٹی ہی تھی اور جس طرح مٹی کے کھلونے انسانی کلوں سے چلتے پھرتے ہیں وہ ایک ۷۹ کے الانبياء: ۹۷