شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 502

شہادة القرآن — Page 368

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۶۶ شهادة القرآن کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔ پھر اگر حدیث کے یہ معنی کئے جائیں گے کہ دو سو برس کے بعد علامات گہر ی شروع ہوں گی تو یہ صریح خلاف ہے کیونکہ دوسو برس کے بعد تو کوئی 1) علامت شروع نہ ہوئی اس لئے علماء نے اس حدیث میں ماتین سے مراد وہ دو سو لیا ہے جو ہزار کے بعد آوے یعنی بارہ سو برس۔ اور اس تاویل میں علماء حق پر ہیں کیونکہ کچھ شک نہیں کہ بڑے بڑے فتنے تیرھویں صدی میں ہی ظہور میں آئے اور دجالیت کا طوفان اسی صدی میں پھیلا اور مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ کا تماشا بھی اسی صدی میں دیکھا گیا۔ صد ہا اسلامی ریاستیں خاک میں مل گئیں اور نصاری نے خوب بلندی حاصل کی۔ اور یہ تیسراشق بحث طلب کہ اگر در حقیقت کوئی مسیح موعود اس اُمت میں سے آنے والا ہے تو اس پر کیا دلیل ہے کہ وہ مسیح یہی عاجز ہے اس کے بعض قرائنی دلائل تو ابھی ہم تحریر کر چکے ہیں حاجت اعادہ نہیں لیکن خاص طور کے دلائل اگر طلب ہوں تو سائل کو ذرہ صبر کرنا چاہیے تا خود خدا تعالیٰ اپنے بندے کی تائید میں دلائل نازل کرے اصل بات یہ ہے کہ ایسے دعاوی صرف معقولی یا منقولی دلائل سے کامل طور پر بپایہ ثبوت نہیں پہنچ سکتے جب تک شخص مدعی کی برکات آسمانی تائیدات سے ثابت نہ ہوں اور یہی سنت خدا تعالیٰ کی قدیم سے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ جاری چلی آئی ہے مثلاً ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں اگر چہ پہلی کتابوں میں پیش از وقت خبریں دی گئیں تھیں اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ایسے زمانہ میں تشریف لائے کہ وہ زمانہ ایک عظیم الشان رسول کے مبعوث ہونے کا محتاج ہور ہا تھا لیکن با وجود ان سب باتوں کے خدا تعالیٰ نے اپنے سچے نبی کی سچائی ثابت کرنے کے لیے پہلی پیشگوئیوں پر اکتفانہ کی اور نہ دوسرے قرائن کو ملتفی سمجھا بلکہ بہت سے آسمانی نشان اُس پاک نبی کی تصدیق کے لئے نازل کئے ۔ یہاں تک کہ اس نبی کریم کا سچا ہونا کھل گیا اور آفتاب کی طرح نور صداقت چمک اٹھا۔ سواسی طرح سمجھنا چاہیے کہ اگر یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اپنے اقوال میں صادق ہے تو الانبياء: ۹۷