شہادة القرآن — Page 367
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۶۵ شهادة القرآن زمانہ ہے حضرت عیسی کی مانند کوئی خلیفہ آنا چاہیے کہ جو تلوار سے نہیں بلکہ روحانی تعلیم اور برکات سے اتمام حجت کرے اور اس لحاظ سے کہ حضرت مسیح حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد آئے یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ مسیح موعود کا اس زمانہ میں ظہور کرنا ضروری ہو اور خدا تعالیٰ کے وعدوں میں تخلف نہیں تو اب دیکھنا چاہیے کہ ایسے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اس زمانہ میں مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا ۔ اگر فرض بھی کیا جائے کہ مثلاً مسلمانوں میں سے اس زمانہ میں (۷۰) دنش آدمیوں نے دعوی کیا ہے تو اُن دس میں سے ایک ضرور صادق اور مسیح موعود ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ نشان صادق کے وجود کو چاہتے ہیں لیکن جس حالت میں ہیں کروڑ مسلمانوں میں سے جو شام اور عرب اور عراق اور مصر اور ہند وغیرہ بلاد میں رہتے ہیں اس علامات کے زمانہ میں جو کتاب اللہ اور حدیث کی رو سے مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ ہے صرف ایک شخص نے مسلمانوں میں سے مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا ہے تو ایسے مدعی کی تکذیب سے جو اپنے وقت پر ظاہر ہوا پیشگوئی کی تکذیب لازم آتی ہے۔ چودھویں صدی کے سر پر مسیح موعود کا آنا جس قدر حدیثوں سے قرآن سے اولیاء کے مکاشفات سے بپایہ ثبوت پہنچتا ہے حاجت بیان نہیں پھر جو دعوئی اپنے محل اور موقعہ پر ہے اُس کے رد کرنے سے تو ایک متقی آدمی کا بدن کانپ جاتا ہے۔ غرض پہلی دلیل اس عاجز کی صداقت کی ایسے وقت میں دعوی کرنا ہے جس وقت کو سید الرسل صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم اور اولیاء کے مکاشفات نے مسیح موعود کے ظہور کے لئے خاص کیا ہے جبکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبی آخر الزمان ٹھہرے اور پھر اُس آخر الزمان سے بھی تیرہ سو برس اور گذر گیا تو پھر اس حدیث کو سوچو جس میں منبر کے سات درجہ کو جو رویا میں دیکھا گیا دنیا کا سات ہزار برس قرار دیا ہے اور خوب غور کرو کہ کیا یہ زمانہ اُس حدیث کی رو سے مسیح موعود کے لئے ضروری ہے یا نہیں ۔ پھر حدیث الآيات بعد الماتين پر بھی خیال کرو جس سے علماء نے یہ نکالا ہے کہ تیرھویں صدی سے آیات کبری قیامت کی شروع ہوں گی کیونکہ اگر آیات سے آیات صغریٰ مراد ہیں تو اس صورت میں بعد المئتین کی شرط لا حاصل ٹھہرتی ہے خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود قیامت