شہادة القرآن — Page 361
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۵۹ شهادة القرآن نزدیک نہیں آتا۔ اب یہود کی تو اری ہاتھ میں لیکر دیکھو کہ کس قدر ان مسلمانوں کو دین اور دنیا کی تباہی میں ان یہود سے اشد مشابہت ہے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھے۔ توریت میں یہود کی نسبت یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ جب تک سیلا نہ آوے ان کی بادشاہی نہیں جائے گی ۔ سیلا سے مراد حضرت مسیح تھے اور فی الواقع ایسا ہی ہوا تھا کہ حضرت مسیح کی پیدائش سے بھی کچھ عرصہ پہلے یہود کی متفرق ریاستوں پر سلطنت رومیہ ٹوٹ پڑی ہوئی تھی اور چونکہ یہود اس زمانہ کے مسلمانوں کی طرح باہمی نفاقوں اور روز کے جھگڑوں اور کسل اور جہالت کے غلبہ سے ضعیف ہو چکے تھے اور ان کی اندرونی حالت خودان کے لئے ایک بدفالی کی خبر دے رہی تھی اس لئے یہود نے حضرت مسیح کے زمانہ سے کچھ تھوڑا ہی پیشتر خود اپنے تئیں سلطنت رومیہ کے سپر د کر دیا تھا اور مشابہت کے لحاظ سے اس امت میں بھی ایک سیلا کا آنا ضروری تھا جو عین دینی دنیوی تباہی کے وقت میں آوے۔ اور در حقیقت ایسی ہی پیشگوئی مسلمانوں کے اس زمانہ کے لئے جو حضرت مسیح کے زمانہ سے بلحاظ مدت وغیرہ لوازم مشابہ تھا قرآن کریم نے بھی کی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ اى من كل حدب ينسلون الى الاسلام ويفسدون في ارضه ويتملكون بلاده ويجعلون اعزّة اهلها اذلة ۔ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ قوم نصاری جو فرقہ یا جوج اور ماجوج ہو گا ہر یک بلندی سے ممالک اسلام کی طرف دوڑیں گے اور (۶۳) ان کو غلبہ ہو گا اور بلاد اسلام کو وہ دباتے جائیں گے یہاں تک کہ سلطنت اسلام صرف بنام رہ جائے گی جیسا کہ آج کل ہے۔ واقعات کے تطابق کو دیکھو کہ کیونکر اسلام کے مصائب اور مسلمانوں کی دینی دنیوی تباہی کا زمانہ یہودیوں کے اس زمانہ سے مل گیا ہے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھا اور پھر دیکھو کہ قرآن کی پیشگوئی اسلامی سلطنت کے ضعف کے بارے میں اور مخالفوں کے غالب ہونے کی نسبت کیسی اس پیشگوئی سے انطباق پاگئی ہے جو اسرائیلی سلطنت کے زوال کے بارہ میں توریت میں کی گئی تھی۔ ہاں مجدد دین کی بشارت میں توریت کی پیشگوئی اور قرآن کی پیشگوئی میں صرف پیرا یہ بیان کا فرق ہے یعنی تو ریت میں تو اسرائیلی قوت کے ٹوٹنے اور عصا کے جاتے رہنے کے وقت میں جس سے مراد ز وال سلطنت تھا سیلا کے آنے کی بشارت الانبياء: ۹۷