شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 502

شہادة القرآن — Page 360

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۵۸ شهادة القرآن ویسا ہی یہ قوم مسلمان بھی اکثر اور اغلب طور پر ادبار کی حالت میں گری ہوئی نظر آتی ہے اگر کوئی ریاست ہے تو اس کو اندرونی نفاقوں اور وزراء اور عملہ کی خیانتوں اور بادشاہوں کے کنسل اور ستیوں اور جہالتوں اور بے خبریوں اور عیش پسندیوں اور آرام طلبیوں نے ایسا کمزور کر دیا ہے کہ اب ان کا کوئی آخری دم ہی نظر آتا ہے اور یہ لوگ بھی یہودیوں کی طرح منتظر تھے کہ مسیح موعود بادشاہوں کی طرح بڑے جلال کے ساتھ ان کی حمایت کے لئے نازل ہوگا۔ اب وہ آنکھیں جو د یکھ سکتی ہیں اور وہ دل جو انصاف کر سکتے ہیں اور وہ عقل جو سوچ سکتی ہے اس جگہ دیکھ لیں اور تول لیں اور سوچ لیں کہ کیا یہ ماجرا اور وہ ماجرا دونوں برابر ہیں یا نہیں ۔ بھلا پیشگوئیوں کو تھوڑی دیر کے لئے نظر انداز کر دو صرف ایک محقق بن کر عقلی طور پر ہی دیکھو کہ کیا اس زمانہ کے مسلمانوں اور حضرت مسیح کے زمانہ کے یہودیوں کا معاملہ طابق النعل بالنعل کا مصداق ہے یا نہیں۔ انجیلوں کو غور کر کے دیکھو اور پڑھو کہ جو کچھ حضرت مسیح علیہ السلام نے یہود کے مولویوں اور فقیہوں کی نسبت حالات لکھے ہیں اور ان کی خیانتیں ظاہر کی ہیں کیا حال کے مسلمان مولویوں میں وہ پائی جاتی ہیں یا نہیں ۔ کیا یہ سچ (۶۳) ہے یا نہیں کہ ہمارے علماء بھی یہودیوں کے فقیہوں کی طرح دن رات عبث جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں اور روحانیت سے بکلی خالی ہو گئے ہیں اور دوسروں کو کا فر ٹھہرانے میں کوشش کرتے اور آپ نہیں جانتے کہ اسلام کیا شے ہے اور وہ ایسے وعظ کرتے ہیں جن پر آپ عمل نہیں کرتے اور روٹی کمانے کے لئے وعظ کا منصب اختیار کر کے دور دراز نکل جاتے ہیں اور بے سند تک بندیوں سے لوگوں کو خوش کر کے مال حرام کھاتے ہیں اور مکر اور فریب اور دغا بازیوں میں یہودیوں سے کچھ کم نہیں رہے۔ ایسا ہی دنیا داروں کی حالت ہے کہ اکثر ان کے دنیا کمانے کے لئے ہر یک خیانت اور دروغگو ئی کو شیر مادر کی طرح حلال سمجھتے ہیں جو رئیس کہلاتے ہیں اور ٹوٹی پھوٹی ریاستیں ان کے ہاتھ میں ہیں ان کو عیاشیوں نے ہلاک کر دیا ہے۔ بہتیرے ان میں سے شراب کو پانی کی طرح پیتے ہیں زنا سے ذرہ بھی کراہت نہیں کرتے خدا تعالیٰ کا خوف دن رات کے کسی حصہ میں بھی ان کے