شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 335 of 502

شہادة القرآن — Page 335

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۳۳ شهادة القرآن دیتی ہے یعنی مقصود اصلی تعمیم تھی نہ تخصیص تو پھر مسکم کا لفظ اس جگہ کیوں زیادہ کیا گیا ۔ اور اس کی زیادت کی ضرورت ہی کیا تھی صرف اس قدر فرمایا ہوتا کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ تو اس کا جواب یہ ہے که به وعده ان ایمانداروں اور نیکو کاروں کے مقابل پر تھا جو اس اُمت سے پہلے گزر چکے ہیں پس گویا تفصیل اس آیت کی یوں ہے کہ خدا تعالیٰ نے تم سے پہلے ان لوگوں کو روئے زمین پر خلیفے مقرر کیا تھا جو ایماندار اور صالح تھے اور اپنے ایمان کے ساتھ اعمال صالح جمع رکھتے تھے اور خدا تعالیٰ وعدہ کرتا ہے کہ تم میں سے بھی اے مسلما نو ایسے لوگوں کو جو انہیں صفات حسنہ سے موصوف ہوں اور ایمان کے ساتھ اعمال صالح جمع رکھتے ہوں خلیفے کرے گا پس منکم کا لفظ زائد نہیں بلکہ اس سے غرض یہ ہے کہ تا اسلام کے ایمانداروں اور نیکوکاروں کی طرف اشارہ کرے کیونکہ جبکہ نیکو کار اور ایماندار کا لفظ اس آیت میں پہلی امتوں اور اس اُمت کے ایمانداروں اور نیکوکاروں پر برابر حاوی تھا پھر اگر کوئی تخصیص کا لفظ نہ ہوتا تو عبارت رکیک اور مبہم اور دور از فصاحت ہوتی اور منکم کے لفظ سے یہ جتانا بھی منظور ہے کہ پہلے بھی وہی لوگ خلیفے مقرر کئے گئے تھے کہ جو ایماندار اور نیکو کار تھے اور تم میں سے بھی ایماندار اور نیکو کار ہی مقرر کئے جائیں گے۔ اب اگر آنکھیں دیکھنے کی ہوں تو عام معنی کی رو سے منکم کے لفظ کا زائد ہونا کہاں لازم آتا ہے اور تکرار کلام کیونکر ہے جبکہ ایمان اور عمل صالح اسی اُمت سے شروع نہیں ہوا پہلے بھی مومن اور نکو کار گذرے ہیں تو اس صورت میں تمیز کامل بجز منکم کے لفظ کے کیونکر ہو سکتی تھی۔ اگر صرف اس قدر ہوتا کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ تو کچھ معلوم نہ ہو سکتا تھا کہ یہ کن ایمانداروں کا ذکر ہے آیا اس اُمت کے ایماندار یا گذشتہ امتوں کے اور اگر صرف منكم ہوتا اور الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ : (۳۸) ہوتا تو یہ سمجھا جاتا کہ فاسق اور بد کا رلوگ بھی خدا تعالیٰ کے خلیفے ہو سکتے ہیں حالانکہ فاسقوں کی بادشاہت اور حکومت بطور ابتلا کے ہے نہ بطور اصطفا کے اور خدا تعالی کے حقانی خلیفے