شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 334 of 502

شہادة القرآن — Page 334

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۳۲ شهادة القرآن آؤ یا عورتوں سے مباشرت کرو اور پانی نہ ملے تو ان سب صورتوں میں پاک مٹی سے تیتم کرلو۔ (۸) أطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمُ لے یعنی اللہ اور رسول اور اپنے بادشاہوں کی تابعداری کرو۔ (۹) مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ : یعنی جو شخص تم میں سے بوجہ اپنی جہالت کے کوئی بدی کرے اور پھر تو بہ کرے اور نیک کاموں میں مشغول ہو جائے پس اللہ غفور رحیم ہے۔ (١٠) فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِمَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِ الْعَذَابِ سے یعنی جو شخص تم میں سے ایسا کام کرے دُنیا کی زندگی میں اُس کو رسوائی ہوگی اور قیامت کو اُس کے لئے سخت عذاب ہے۔ (11) وَإِن مِنكُفر الا وَارِدُهَا " یعنی تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو دوزخ میں وارد نہ ہو۔ (۱۲) وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ یعنی ہم اُن لوگوں کو جانتے ہیں جو تم میں سے آگے بڑھنے والے ہیں اور جو پیچھے رہنے والے ہیں۔ اب ان تمام مقامات کو دیکھو کہ منکم کا لفظ تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے خواہ اس وقت موجود تھے خواہ بعد میں قیامت تک آتے جائیں ایسا ہی تمام دوسرے مقامات میں بجز دو تین موضعوں کے عام طور پر استعمال ہوا ہے اور تمام احکام میں بظا ہر صورت مخاطب صحابہ ہی ہیں لیکن تخصیص صحابہ بجز قیام قرینہ کے جائز نہیں۔ ورنہ ہر یک فاسق عذر کر سکتا (۳۷) ہے کہ صوم اور صلوٰۃ اور حج اور تقویٰ اور طہارت اور اجتناب عن المعاصی کے متعلق جس قدر احکام ہیں ان احکام کے مخاطب صرف صحابہ ہی تھے اس لئے ہمیں نماز روزہ وغیرہ کی پابندی لازم نہیں اور ظاہر ہے کہ ایسے کلمات بجز ایک زندیق کے اور کوئی خدا ترس آدمی زبان پر نہیں لاسکتا ۔ اگر کسی کے دل میں یہ خیال گذرے کہ اگر آیت وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا فائدہ عموم کا النساء : ٦٠ الانعام : ۵۵ البقرة : ٨٦ مریم : ۷۶ الحجر : ۲۵