شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 502

شہادة القرآن — Page 322

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۲۰ شهادة القرآن مرسل کو بھیجے گا تا مختلف قوموں کا فیصلہ ہو اور چونکہ قرآن شریف سے ثابت ہو چکا ہے کہ وہ ظلمت عیسائیوں کی طرف سے ہوگی تو ایسا مامور من اللہ بلا شبہ انہیں کی دعوت کے لئے اور انہیں کے فیصلہ کے لئے آئے گا۔ پس اسی مناسبت سے اس کا نام عیسی رکھا گیا ہے کیونکہ وہ عیسائیوں کے لئے ایسا ہی بھیجا گیا جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام اُن کے لئے بھیجے گئے تھے اور آیت وَإِذَا الرُّسُلُ اقْتَتْ میں الف لام عہد خارجی پر دلالت کرتا ہے یعنی وہ مجدد جس کا بھیجنا بزبان رسول کریم معہود ہو چکا ہے وہ اُس عیسائی تاریکی کے وقت میں بھیجا جائے گا۔ جس قدراب تک ہم آیات قرآن کریم لکھ چکے ہیں اُن سے بخوبی ظاہر ہے کہ ضرور قرآن کریم میں یہ پیشگوئی موجود ہے کہ آخری زمانہ میں دین عیسوی دنیا میں بکثرت پھیل جائے گا۔ اور وہ لوگ ارادہ کریں گے کہ تا دین اسلام کو روئے زمین پر سے مٹادیں اور جہاں تک اُن کے لئے ممکن ہوگا اپنے دین کی بھلائی میں کوئی دقیقہ چھوڑ نہیں رکھیں گے ۔ تب خدا تعالیٰ دین اسلام کی نصرت کی طرف متوجہ ہوگا اور اس فتنہ کے وقت میں دکھلائے گا کہ وہ کیونکر اپنے دین اور اپنے پاک کلام کا محافظ ہے۔ تب اُس کی عادت اور سنت کے موافق ایک آسمانی روشنی نازل ہو گی اور ہر ایک سعید اس روشنی کی طرف کھینچا جائے گا یہاں تک کہ تمام سعادت کے جگر پارے ایک ہی دین کے جھنڈے کے نیچے آجائیں گے ۔ خدا تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرما دیا ہے کہ (۲۵) لڑائیوں اور مباحثات کے شور اٹھنے کے وقت میں نفخ صور ہو گا تب سعید لوگ ایک ہی مذہب پر جمع کئے جائیں گے اور پھر یہ بھی فرما دیا کہ تاریکی کے وقت میں رسولوں کو بھیجا جائے گا۔ اب اس سے اور کیا تصریح ہو گی کہ اللہ جل شانہ نے اوّل آخری زمانہ کی علامت یا جوج ماجوج کا غلبہ یعنی روس اور انگریزوں کا تسلط بیان فرمایا ۔ پھر دوسری علامت بہت سے فرقے پیدا ہو جانا قرار دیا۔ پھر تیسری علامت ان فرقوں کا آپس میں مباحثات کرنا اور موج کی طرح ایک دوسرے پر پڑنا بیان فرمایا ۔ پھر چوتھی علامت ریل کا جاری ہونا۔ پھر پانچویں علامت کتابوں اور اخبار کے شائع ہونے کے ذریعے جیسے چھاپہ خانہ اور تار برقی۔ پھر المرسلت ١٢