شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 316 of 502

شہادة القرآن — Page 316

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۱۴ شهادة القرآن مشرف ہو کر دعوت حق کے لئے مامور ہوتا ہے اور فرشتے ان تمام لوگوں سے تعلق پکڑتے ہیں جو سعید اور رشید اور مستعد ہیں اور ان کو نیکی کی طرف کھینچتے ہیں اور نیک توفیقیں ان کے سامنے رکھتے ہیں تب دنیا میں سلامتی اور سعادت کی راہیں پھیلتی ہیں اور ایسا ہی ہوتا رہتا ہے جب تک دین اپنے اس کمال کو پہنچ جائے جو اس کے لئے مقدر کیا گیا ہے۔ اب دیکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے اس سورہ مبارکہ میں صاف اور صریح لفظوں میں فرما دیا کہ جب کوئی مصلح خدا تعالی کی طرف سے آتا ہے تو ضرور دلوں کو حرکت دینے والے ملائکہ زمین پر نازل ہوتے ہیں تب ان کے نزول سے ایک حرکت اور تموج دلوں میں نیکی اور راہ حق کی طرف پیدا ہو جاتا ہے۔ پس ایسا خیال کرنا کہ یہ حرکت اور یہ تموج بغیر ظہور صلح کے خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی پاک کلام اور اس کے قدیم قانون قدرت کے مخالف ہے اور ایسے اقوال صرف ان لوگوں کے منہ سے نکلتے ہیں جو الہی اسرار سے بے خبر محض اور صرف اپنے بے بنیاد اوہام کے تابع ہیں بلکہ یہ تو آسمانی مصلح کے پیدا ہونے کی علامات خاصہ ہیں اور اس آفتاب کے گرد ذرات کی مانند ہیں۔ ہاں اس حقیقت کو دریافت کرنا ہر ایک کا کام نہیں ۔ ایک دنیا دار کی دود آمیز نظر اس نور کو دریافت نہیں کر سکتی دینی صداقتیں اس کی نظر میں ایک ہنسی کی بات ہے اور معارف الہی اس کے خیال میں بیوقوفیاں ہیں۔ اور دوسری آیات جن میں اس آخری زمانہ کی نشانیاں بتلائی گئی ہیں یعنی وہ آیات جن میں اوّل ارضی تاریکی زور کے ساتھ پھیلنے کی خبر دی گئی ہے اور پھر آسمانی روشنی کے نازل ہونے کی علامتیں بتائی گئی ہیں وہ یہ ہیں إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا ۔ وَاَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا ۔ وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا يَوْمَبِذٍ تُحَدِثُ أَخْبَارَهَا بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا یعنی آخری زمانه اس وقت آئے گا کہ جس وقت زمین ایک ہولناک جنبش کے ساتھ جو اس کی مقدار کے مناسب حال ہے ہلائی جائے گی یعنی اہل الارض میں ایک تغیر عظیم آئے گا اور نفس اور دنیا پرستی کی طرف لوگ جھک جائیں گے اور پھر فرمایا کہ زمین اپنے تمام بوجھ نکال ڈالے گی الزلزال: ۲تا۶