شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 502

شہادة القرآن — Page 315

۳۱۳ روحانی خزائن جلد ۶ شهادة القرآن میں ایک حرکت پیدا ہو جاتی ہے غرض ایک ایسی ہوا چلتی ہے جو مستعد دلوں کو آخرت کی طرف ہلا دیتی ہے اور سوئی ہوئی قوتوں کو جگا دیتی ہے اور زمانہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ایک انقلاب عظیم کی طرف حرکت کر رہا ہے سو یہ علامتیں اس بات پر شاہد ہوتی ہیں کہ وہ مصلح دنیا میں پیدا ہو گیا پھر جس قدر آنے والا مصلح عظیم الشان ہو یہ غیبی تحریکات قوت سے مستعد دلوں میں اپنا کام کرتی ہیں۔ ہر یک سعید الفطرت جاگ اٹھتا ہے اور نہیں جانتا ہے کہ اس کو کس نے جگایا۔ ہر یک صحیح الجبلت اپنے اندر ایک تبدیلی پاتا ہے اور نہیں معلوم کر سکتا کہ یہ تبدیلی کیونکر پیدا ہوئی۔ غرض ایک جنبش سی دلوں میں شروع ہو جاتی ہے اور نادان خیال کرتے ہیں کہ یہ جنبش خود بخود پیدا ہوگئی لیکن در پردہ ایک رسول یا مجدد کے ساتھ یہ انوار نازل ہوتے ہیں چنانچہ قرآن کریم اور احادیث کی رو سے یہ امر نہایت انکشاف کے ساتھ ثابت ہے جیسا کہ اللہ جل شانه فرماتا ہے اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ۔ وَمَا أَدْرَكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ۔ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ۔ تَنَزَّلُ الْمَلبِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ ۔ سَلم (۱۸) هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ یعنی ہم نے اس کتاب اور اس نبی کولیلۃ القدر میں اتارا ہے اور تو جانتا ہے کہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے لیلۃ القدر ہزار مہینہ سے بہتر ہے اس میں فرشتے اور روح القدس اپنے رب کے اذن سے اترتے ہیں۔ اور وہ ہر یک امر میں سلامتی کا وقت ہوتا ہے یہاں تک کہ فجر ہو ۔ اب اگر چہ مسلمانوں کے ظاہری عقیدہ کے موافق لیلۃ القدر ایک متبرک رات کا نام ہے مگر جس حقیقت پر خدا تعالیٰ نے مجھ کو مطلع کیا ہے وہ یہ ہے کہ علاوہ ان معنوں کے جو مسلم قوم ہیں لیلتہ القدروہ زمانہ بھی ہے جب دنیا میں ظلمت پھیل جاتی ہے اور ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہوتی ہے تب وہ تاریکی بالطبع تقاضا کرتی ہے کہ آسمان سے کوئی نور نازل ہو ۔ سو خدا تعالی اس وقت اپنے نورانی ملائکہ اور روح القدس کو زمین پر نازل کرتا ہے۔ اسی طور کے نزول کے ساتھ جو فرشتوں کی شان کے ساتھ مناسب حال ہے تب روح القدس تو اس مجدد اور مصلح سے تعلق پکڑتا ہے جو احتبا اور اصطفا کی خلعت سے ل القدر : ۲ تا ۶