شہادة القرآن — Page 303
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۰۱ شهادة القرآن ٹھہر گئی تھیں انکی قطعیت اور تواتر کی نسبت کلام کرنا تو درحقیقت جنون اور دیوانگی کا ایک شعبہ ہے مثلاً آج اگر کوئی شخص یہ بحث کرے کہ یہ پنج نمازیں جو مسلمان پنج وقت ادا کرتے ہیں ان کی رکعات کی تعداد ایک شکی امر ہے کیونکہ مثلاً قرآن کریم کی کسی آیت میں یہ مذکور نہیں کہ تم صبح کی دو رکعت پڑھا کرو اور پھر جمعہ کی دو اور عیدین کی بھی دو دو۔ رہی احادیث تو وہ اکثر احاد ہیں جو مفید یقین نہیں تو کیا ایسی بحث کرنے والا حق پر ہوگا۔ اگر احادیث کی نسبت ایسی ہی رائیں قبول کی جائیں تو سب سے پہلے نماز ہی ہاتھ سے جاتی ہے کیونکہ قرآن نے تو نماز پڑھنے کا کوئی نقشہ کھیچ کر نہیں دکھلایا صرف یہ نمازیں احادیث کی صحت کے بھروسہ پر پڑھی جاتی ہیں اب اگر مخالف یہی اعتراض کرے کہ قرآن نے نماز کا طریق نہیں سکھلایا اور جس طریق کو مسلمانوں نے اختیار کر رکھا ہے وہ مردود ہے کیونکہ احادیث قابل اعتبار نہیں تو ہم ایسے اصول پر آپ ہی پابند ہونے سے کہ بے شک احادیث کچھ بھی چیز نہیں اس اعتراض کا کیا جواب دے سکتے ہیں بجز اس کے کہ اعتراض کو قبول کر لیں بلکہ اس صورت میں اسلام کی نماز جنازہ بھی بالکل بیہودہ ہوگی کیونکہ قرآن میں اس بات کا کہیں ذکر نہیں کہ کوئی ایسی نماز بھی ہے کہ جس میں سجدہ اور کوع نہیں ۔ اب سوچ کر دیکھ لو کہ احادیث کے چھوڑنے سے اسلام کا کیا باقی رہ جاتا ہے۔ اور خود یہ بات قلت تدبر کا نتیجہ ہے کہ ایسا خیال کر لیا جائے کہ احادیث کا ما حصل صرف اس قدر ہے کہ محض ایک یا دو آدمی کے بیان کو معتبر سمجھ کے اُس کی روایت کو قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (1) خیال کر لیا جائے بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ احادیث کا سلسلہ تعامل کے سلسلہ کی ایک فرع اور اطراد بعد الوقوع کے طور پر ہے مثلاً محد ثین نے دیکھا کہ کروڑہا آدمی مغرب کے فرض کی تین رکعت پڑھتے ہیں اور فجر کی دو اور مع ذالک ہر ایک رکعت میں سورہ فاتحہ ضرور پڑھتے ہیں اور آمین بھی کہتے ہیں گو بالجهر یا بالسر اور قعدہ اخیرہ میں التحیات پڑھتے ہیں اور ساتھ اس کے درود اور کئی دعائیں ملاتے ہیں اور دونوں طرف سلام دے کر نماز سے باہر ہوتے ہیں۔ سو اس طر ز عبادت کو دیکھ کر محدثین کو یہ ذوق اور شوق پیدا ہوا کہ تحقیق کے طور پر اس وضع نماز کا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیں اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے اس کو ثابت کریں۔ اب اگر چہ یہ بات سچ ہے کہ انھوں نے ایسے سلسلہ کی بہم رسانی کے لئے یہ کوشش نہیں کی کہ ایک ایک