شہادة القرآن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 502

شہادة القرآن — Page 302

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۰۰ شهادة القرآن لڑائیاں ہونا جن کا قرآن کریم میں نام و نشان نہیں اور صرف احادیث سے یہ تمام امور ثابت ہوتے ہیں تو کیا ان تمام واقعات سے اس بناء پر انکار کر دیا جاوے کہ احادیث کچھ چیز نہیں اگر یہ سچ ہے تو پھر مسلمانوں کے لئے ممکن نہ ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک سوانح میں سے کچھ بھی بیان کر سکیں۔ دیکھنا چاہیے کہ ہمارے مولیٰ و آقا کی سوانح کا وہ سلسلہ کہ کیونکر قبل از بعثت مکہ میں زندگی بسر کی اور پھر کس سال دعوت نبوت کی اور کس ترتیب سے لوگ داخل اسلام ہوئے اور کفار نے مکہ کے دس سال میں کس کس قسم کی تکلیفیں پہنچائیں اور پھر کیونکر اور کس وجہ سے لڑائیاں شروع ہوئیں اور کس قدر لڑائیوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس حاضر ہوئے اور آنجناب کے زمانہ زندگی تک کن کن ممالک تک حکومت اسلام پھیل چکی تھی اور شاہان وقت کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت اسلام کے خط لکھے تھے یا نہیں اور اگر لکھے تھے تو ان کا کیا نتیجہ ہوا تھا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق کے وقت کیا کیا فتوحات اسلام ہوئیں اور کیا کیا مشکلات پیش آئیں اور حضرت فاروق کے زمانہ میں کن کن ممالک تک فتوحات اسلام ہوئیں۔ یہ تمام امور صرف احادیث اور اقوال صحابہ کے ذریعہ سے معلوم ہوتے ہیں پھر اگر احادیث کچھ بھی چیز نہیں تو پھر اُس زمانہ کے حالات دریافت کرنا نہ صرف ایک امر مشکل بلکہ محالات میں سے ہوگا اور اس صورت میں واقعات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی نسبت مخالفین کو ہر یک افترا کی گنجائش ہوگی اور ہم دشمنوں کو بے جا حملہ کرنے کا بہت سا موقعہ دیں گے اور ہمیں ماننا پڑے گا کہ جو کچھ ان احادیث کے ذریعہ سے واقعات اور سوانح دریافت ہوتے ہیں وہ سب پیچ اور کالعدم ہیں یہاں تک کہ صحابہ کے نام بھی یقینی طور پر ثابت نہیں ۔ غرض ایسا خیال کرنا کہ احادیث کے ذریعہ سے کوئی یقینی اور قطعی صداقت ہمیں مل ہی نہیں سکتی گویا اسلام کا بہت سا حصہ اپنے ہاتھ سے نابود کرنا ہے بلکہ اصل اور بیح امر یہ ہے کہ جو کچھ احادیث کے ذریعہ سے بیان ہوا ہے جب تک صحیح اور صاف لفظوں میں قرآن اُس کا معارض نہ ہو تب تک اس کو قبول کرنا لازم ہے کیونکہ یہ بات مسلم ہے کہ طبعی امر انسان کیلئے راست گوئی ہے اور انسان جھوٹ کو محض کسی مجبوری کی وجہ سے اختیار کرتا ہے کیونکہ وہ اُس کے لئے ایک غیر طبعی ہے۔ پھر ایسی احادیث جو تعامل اعتقادی یا عملی میں آکر اسلام کے مختلف گروہوں کا ایک شعار