شہادة القرآن — Page 301
۲۹۹ روحانی خزائن جلد ۶ شهادة القرآن بلا توقف یہ نتیجہ پیدا کیا کہ بجر قرآن کریم کے اور جس قدر مسلمات اسلام ہیں وہ سب کے سب بے بنیاد شکوک ہیں جن کو یقین اور قطعیت میں سے کچھ حصہ نہیں لیکن در حقیقت یہ ایک بڑا بھاری دھو کہ ہے جس کا پہلا اثر دین اور ایمان کا تباہ ہونا ہے کیونکہ اگر یہی بات سچ ہے کہ اہل اسلام کے پاس بجز قرآن کریم کے جس قدر اور منقولات ہیں وہ تمام ذخیرہ کذب اور جھوٹ اور افترا اور ظنون اور اوہام کا ہے تو پھر شائد اسلام میں سے کچھ تھوڑا ہی حصہ باقی رہ جائے گا وجہ یہ کہ ہمیں اپنے دین کی تمام تفصیلات احادیث نبویہ کے ذریعہ سے ملی ہیں مثلاً یہ نماز جو پنج وقت ہم پڑھتے ہیں گو قرآن مجید سے اس کی فرضیت ثابت ہوتی ہے مگر یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صبح کی دو رکعت فرض اور دو رکعت سنت ہیں اور پھر ظہر کی چار رکعت فرض اور چار اور دوسنت اور مغرب کی تین رکعت فرض اور پھر عشاء کی چار ایسا ہی زکوۃ کی تفاصیل معلوم کرنے کے لئے ہم بالکل احادیث کے محتاج ہیں اسی طرح ہزار ہا جزئیات ہیں جو عبادات اور معاملات اور عقود وغیرہ کے متعلق ہیں اور ایسی مشہور ہیں کہ ان کا لکھنا صرف وقت ضائع کرنا اور بات کو طول دینا ہے۔ علاوہ اس کے اسلامی تاریخ کا مبدء اور منبع یہی احادیث ہی ہیں اگر احادیث کے بیان پر بھروسہ نہ کیا جائے تو پھر ہمیں اس بات کو بھی یقینی طور پر نہیں ماننا چاہیے کہ در حقیقت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تھے جن کو بعد وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی ترتیب سے خلافت ملی اور اسی ترتیب سے ان کی موت بھی ہوئی کیونکہ اگر احادیث کے بیان پر اعتبار نہ کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان بزرگوں کے وجود کو یقینی کہ سکیں اور اس صورت میں ممکن ہو گا کہ تمام نام فرضی ہی ہوں اور دراصل نہ کوئی ابو بکر گذرا ہو نہ عمر نہ عثمان نہ علی کیونکہ بقول میاں عطا محمد معترض یہ سب احادیث احاد ہیں اور قرآن میں ان ناموں کا کہیں ذکر نہیں پھر بموجب اس اصول کے کیوں کر تسلیم کی جائیں۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام آمنہ اور دادا کا نام عبد المطلب ہونا اور پھر آنحضرت صلعم (۴) کی بیویوں میں سے ایک کا خدیجہ اور ایک کا نام عائشہ اور ایک کا نام حفصہ رضی اللہ ہونا اور دایہ کا نام حلیمہ ہونا اور غار حرا میں جا کر آنحضرت کا عبادت کرنا اور بعض صحابہ کا حبشہ کی طرف ہجرت کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعد بعثت دس سال تک مکہ میں رہنا اور پھر وہ تمام