سَت بچن — Page 306
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۰۶ ست بچن ایک اور قرینہ یہ ہے کہ اس مرہم کو مرہم رسل بھی کہتے ہیں ۔ کیونکہ حواری حضرت عیسیٰ کے رسول تھے اور اگر یہ گمان ہو کہ ممکن ہے کہ یہ چوٹیں حضرت مسیح کو نبوت کے بعد کسی اور حادثہ سے لگ گئی ہوں اور صلیب پر مر گئے ہوں جیسا کہ نصاریٰ کا زعم ہے بقیہ حاشیہ در حاشیہ ۔ قوم بنی اسرائیل بھی اس جگہ موجود تھی تو حضرت مسیح اس ملک کے چھوڑنے کے بعد ضرور کشمیر میں آئے ہوں گے مگر جاہلوں نے دور دراز زمانہ کے واقعہ کو یاد نہ رکھا اور بجائے عیسی کے موسیٰ یا سلیمان یا درہ گیا۔ اخویم حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب فرماتے ہیں کہ میں قریباً چودا برس تک جموں اور کشمیر کی ریاست میں نو کر رہا ہوں اور اکثر کشمیر میں ہر ایک عجیب مکان وغیرہ کے دیکھنے کا موقعہ ملتا تھا لہذا اس مدت دراز کے تجربہ کے رو سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر بر نیر صاحب نے اس بات کے بیان کرنے میں کہ اہل کشمیر یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ کشمیر میں موسیٰ کی قبر ہے غلطی کی ہے جو لوگ کچھ مدت کشمیر میں رہے ہیں وہ اس بات سے بے خبر نہیں ہوں گے کہ کشمیر میں موسیٰ نبی کے نام سے کوئی قبر مشہور نہیں ڈاکٹر صاحب کو بوجہ اجنبیت زبان کے ٹھیک ٹھیک نام کے لکھنے میں غلطی ہوگئی ہے یا ممکن ہے کہ سہو کا تب سے یہ غلطی ظہور میں آئی ہو اصل بات یہ ہے کہ کشمیر میں ایک مشہور و معروف قبر ہے جس کو یوز آسف نبی کی قبر کہتے ہیں اس نام پر ایک سرسری نظر کر کے ہر ایک شخص کا ذہن ضرور اس طرف منتقل ہوگا کہ یہ قبر کسی اسرائیلی نبی کی ہے کیونکہ یہ لفظ عبرانی زبان سے مشابہ ہیں مگر ایک عمیق نظر کے بعد نہایت تسلی بخش طریق کے ساتھ گھل جائے گا کہ دراصل یہ لفظ یسوع آسف ہے یعنی یسوع غمگین - اسف اندوہ اور غم کو کہتے ہیں چونکہ حضرت مسیح نہایت غمگین ہو کر اپنے وطن سے نکلے تھے اس لئے اپنے نام کے ساتھ آسف ملا لیا مگر بعض کا بیان ہے کہ دراصل یہ لفظ یسوع صاحب ہے پھر اجنبی زبان میں بکثرت مستعمل ہو کر یوز آسف بن گیا۔ لیکن میرے نزدیک یسوع آسف اسم بامسٹی ہے اور ایسے نام جو واقعات پر دلالت کریں اکثر عبرانی نبیوں اور دوسرے اسرائیلی راست بازوں میں پائے جاتے ہیں چنانچہ یوسف جو حضرت یعقوب کا بیٹا تھا اس کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے کہ اس کی جدائی پر اند و ہ اور غم کیا گیا جیسا کہ اللہ جل شانہ نے اس بات کی طرف اشارہ فرما کر کہا ہے ۔ يَا أَسفى عَلى يُوسُفَ پس اس سے صاف لکھتا ہے کہ یوسف پر اسف یعنی اندوہ ل يوسف: ۸۵