سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 305 of 550

سَت بچن — Page 305

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۰۵ ست بچن کی تکالیف کیلئے یہ نسخہ طیار کیا ہو تو اسکا جواب یہ ہے کہ نبوت سے پہلے حواریوں سے اُنکا کچھ تعلق نہ تھا او بلکہ حواریوں کو حواری کا لقب اُسی وقت سے ملا کہ جب وہ لوگ حضرت عیسی کی نبوت کے بعد اُن پر ایمان لائے اور اُنکا ساتھ اختیار کیا اور پہلے تو انکا نام مجھے یا ماہی گیر تھا سو اس سے صاف تر اور کیا قرینہ ہوگا کہ یہ مرہم اس نام کی طرف منسوب ہے جو حواریوں کو حضرت مسیح کی نبوت کے بعد ملا اور پھر بقیہ حاشیہ در حاشیہ۔ نگاہ میں ہمارے متذکرہ بالا بیان پر شواہد پینہ ہیں یہ واقعہ مذکورہ جو حضرت موسیٰ کشمیر میں آئے تھے چنانچہ ان کی قبر بھی شہر سے قریباً تین میل کے فاصلہ پر ہے صاف دلالت کرتا ہے کہ موسیٰ سے مراد عیسی ہی ہے کیونکہ یہ بات قریب قیاس ہے کہ جب کشمیر کے یہودیوں میں اس قدر تغیر واقع ہوئے کہ وہ بت پرست ہو گئے اور پھر مدت کے بعد مسلمان ہو گئے تو کم علمی اور لا پروائی کی وجہ سے عیسی کی جگہ موسیٰ انہیں یاد رہ گیا ور نہ حضرت موسیٰ تو موافق تصریح توریت کے حورب کی سرزمین میں اُس سفر میں فوت ہو گئے تھے جو مصر سے کنعان کی طرف بنی اسرائیل نے کیا تھا اور حورب کی ایک وادی میں بیت فغفور کے مقابل دفن کئے گئے دیکھو استثناء ۳۴ باب درس ۵ ۔ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ سلیمان کا لفظ بھی رفتہ رفتہ بجائے عیسی کے لفظ کے مستعمل ہو گیا ممکن ہے کہ حضرت عیسی نے پہاڑ پر عبادت کے لئے کوئی مکان بنایا ہو کیونکہ یہ شاذ و نادر ہے کہ کوئی بات بغیر کسی اصل صحیح کے محض بے بنیاد افترا کے طور پر مشہور ہو جائے ہاں یہ غلطی قریب قیاس ہے کہ بجائے عیسی کے عوام کو جو پچھلی تو میں تھیں سلیمان یا د رہ گیا ہو اور اس قدر غلطی تعجب کی جگہ نہیں۔ چونکہ یہ تین نبی ایک ہی خاندان میں سے ہیں اس لئے یہ غلطیاں کسی اتفاقی مسامحت سے ظہور میں آگئیں تبت سے کوئی نسخہ انجیل یا بعض عیسوی وصایا کا دستیاب ہونا جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کوئی عجیب بات نہیں ہے کیونکہ جب قرائن قویہ قائم ہیں کہ بعض نبی بنی اسرائیل کے کشمیر میں ضرور آئے گو ان کے تعین نام میں غلطی ہوئی اور ان کی قبر اور مقام بھی اب تک موجود ہے تو کیوں یہ یقین نہ کیا جائے کہ وہ نبی در حقیقت عیسی ہی تھا جو اول کشمیر میں آیا اور پھر تبت کا بھی سیر کیا اور کچھ بعید نہیں کہ اس ملک کے لوگوں کے لئے کچھ وصیتیں بھی لکھی ہوں اور آخر کشمیر میں واپس آ کر فوت ہو گئے ہوں ۔ چونکہ سرد ملک کا آدمی سرد ملک کو ہی پسند کرتا ہے اس لئے فراست صحیحہ قبول کرتی ہے کہ حضرت عیسی کنعان کے ملک کو چھوڑ کر ضرور کشمیر میں پہنچے ہوں گے۔ میرے خیال میں کسی کو اس میں کلام نہ ہوگا کہ خطہ کشمیر کو خطہ شام سے بہت مشابہت ہے پھر جبکہ ملکی مشابہت کے علاوہ