سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 550

سَت بچن — Page 296

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۹۶ ست بچن ۱۷۲ کو ایک خط مستقیم میں باہم رکھ دیا جاوے تو شاید ایک مسافر کی دومنزل طے کرنے تک بھی وہ دو کا نہیں ختم نہ ہوں ۔ عبادات سے فراغت ہے اور دن رات سوا عیاشی اور دنیا پرستی کے کام نہیں پس اس تمام تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یسوع کے مصلوب ہونے سے اُس پر ایمان لانے والے گناہ سے رُک نہیں سکے بلکہ جیسا کہ بند ٹوٹنے سے ایک تیز دھار دریا کا پانی اردگرد کے دیہات کو تباہ کر جاتا ہے ایسا ہی کفارہ پر ایمان لانے والوں کا حال ہو رہا ہے اور میں جانتا ہوں کہ عیسائی لوگ اس پر زیادہ بحث نہیں کریں گے کیونکہ جس حالت میں اُن نبیوں کو جن کے پاس خدا کا فرشتہ آتا تھا یسوع کا کفارہ بدکاریوں سے روک نہ سکا تو پھر کیونکر تاجروں اور پیشہ وروں اور خشک پادریوں کو نا پاک کاموں سے روک سکتا ہے غرض عیسائیوں کے خدا کی کیفیت یہ ہے جو ہم بیان کر چکے۔ تیسرا مذہب اُن دو مذہبوں کے مقابل پر جن کا ابھی ہم ذکر کر چکے ہیں اسلام ہے اس مذہب کی خداشناسی نہایت صاف صاف اور انسانی فطرت کے مطابق ہے اگر تمام مذہبوں کی کتابیں نابود ہو کر اُنکے سارے تعلیمی خیالات اور تصورات بھی محو ہو جائیں تب بھی وہ خدا جس کی طرف قرآن رہنمائی کرتا ہے آئینہ قانون قدرت میں صاف صاف نظر آئے گا اور اُس کی قدرت اور حکمت سے بھری ہوئی صورت ہر یک ذرہ میں چمکتی ہوئی دکھائی دے گی ۔ غرض وہ خدا جس کا پتہ قرآن شریف بتلاتا ہے اپنی موجودات پر فقط قہری حکومت نہیں رکھتا بلکہ موافق آیت کریمہ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی کے ہر یک ذرہ ذرہ اپنی طبیعت اور روحانیت سے اُس کا حکم بردار ہے۔ اس کی طرف جھکنے کے لئے ہر یک طبیعت میں ایک کشش پائی جاتی ہے اس کشش سے ایک ذرہ بھی خالی نہیں اور یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ ہر یک چیز کا خالق ہے کیونکہ نور قلب اس بات کو مانتا ہے کہ وہ کشش جو اُس کی طرف جھکنے کیلئے تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے وہ بلا شبہ اسی کی طرف سے ہے جیسا کہ قرآن شریف نے اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان تین شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِہ کے یعنی ہر ایک چیز اُس کی پاکی اور اُس کے محامد بیان کر رہی ہے اگر خدا ان چیزوں کا خالق نہیں تھا تو اُن چیزوں میں خدا کی طرف کشش کیوں پائی جاتی ہے نوٹ ۔ یسوع کا مصلوب ہونا اگر اپنی مرضی سے ہوتا تو خودکشی اور حرام کی موت تھی اور خلاف مرضی کی حالت میں کفارہ نہیں ہوسکتا اور یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خواری کا ایک بد نتیجہ ہے۔ من ل الاعراف: ۱۷۳ کے بنی اسرائیل: ۴۵