سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 550

سَت بچن — Page 279

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۷۹ ست بچن و اور اپنا نیک جو ہر دکھلا دے اسلامی شریعت کسی کے حق اور احسان کو ضائع کرنا نہیں چاہتی پس نہ (۱۵۵) منافقانہ طور پر بلکہ دل کی سچائی سے اس محسن گورنمنٹ سے اطاعت کے ساتھ پیش آنا چاہئے کیونکہ ہمارے دین کی روشنی پھیلانے کیلئے پہلی تقریب خدا تعالیٰ نے یہی قائم کی ہے۔ پھر دوسرا ذریعہ جو مذاہب کی شناخت کرنے کا ہمارے ملک میں پیدا ہو گیا چھاپے خانوں کی کثرت ہے کیونکہ ایسی کتا ہیں جوگو یا زمین میں وقفن تھیں ان چھا پہ خانوں کے ذریعہ سے گویا پھر زندہ ہو گئیں یہاں تک کہ ہندوؤں کا وید بھی نئے اوراق کا لباس پہن کر نکل آیا گو یا نیا جنم لیا اور حمقاء اور عوام کی بنائی ہوئی کہانیوں کی پردہ دری ہوگئی۔ تیسرا ذریعہ راہوں کا کھلنا اور ڈاک کا احسن انتظام اور دور دور ملکوں سے کتابوں کا اِس ملک میں آجانا اور اس ملک سے اُن ملکوں میں جانا یہ سب وسائل تحقیق حق کے ہیں جو خدا کے فضل نے ہمارے ملک میں موجود کر دیئے جن سے ہم پوری آزادی کے ذریعہ سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں یہ سب فوائد اس محسن اور نیک نیت گورنمنٹ کے ذریعہ ہمیں ملے ہیں جس کیلئے بے اختیار ہمارے دل سے دعا نکلتی ہے لیکن اگر یہ سوال ہو کہ پھر ایسی مہذب اور دانا گورنمنٹ ایسے مذہب سے کیوں تعلق رکھتی ہے جس میں انسان کو خدا بنا کر سچے خدا کے بدیہی اور قدیم اور غیر متغیر جلال کی کسر شان کی جاتی ہے۔ تو افسوس کہ اس سوال کا جواب بجز اس کے کچھ نہیں کہ سلاطین اور ملوک کو جو ملک داری کا خیال واجبی حد سے بڑھ جاتا ہے لہذا تد بر اور تفکر کی تمام قو تیں اُسی میں خرچ ہو جاتی ہیں اور قومی حمایت کی مصلحت آخرت کے امور کی طرف سر اُٹھانے نہیں دیتی اور اسی طرح ایک مسلسل اور غیر منقطع دنیوی مطالب کے نیچے دب کر خداشناسی اور حق جوئی کی روح کم ہو جاتی ہے اور با ایں ہمہ خدا تعالیٰ کے فضل سے نومیدی نہیں کہ وہ اس با ہمت گورنمنٹ کو صراط مستقیم کی طرف توجہ دلا وے۔ ہماری دعا جیسا کہ اس گورنمنٹ کی دنیوی بھلائی کیلئے ہے ایسا ہی آخرت کیلئے بھی ہے پس کیا تعجب ہے کہ دعا کا اثر ہم دیکھ لیں