سَت بچن — Page 278
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۷۸ ست بچن (۱۵۴) سے وہ لوگ جو قریب قریب مویشی اور چارپایوں کے تھے کچھ کچھ حصہ انسانیت اور فہم و فراست کا لے چکے ہیں اور اکثر دلوں اور دماغوں میں ایک ایسی روشنی پیدا ہوگئی ہے جو علوم کے حصول کے بعد پیدا ہوا کرتی ہے۔ معلومات کی وسعت نے گویا یک دفعہ دنیا کو بدل دیا ہے لیکن جس طرح شیشے میں سے روشنی تو اندر گھر کے آسکتی ہے مگر پانی نہیں آ سکتا اسی طرح علمی روشنی تو دلوں اور دماغوں میں آگئی ہے مگر ہنوز وہ مصفا پانی اخلاص اور روبحق ہونے کا اندر نہیں آیا جس سے روح کا پودہ نشو نما پاتا اور اچھا پھل لا تا لیکن یہ گورنمنٹ کا قصور نہیں ہے بلکہ ابھی ایسے اسباب مفقود یا قلیل الوجود ہیں جو سچی روحانیت کو جوش میں لاویں۔ یہ عجیب بات ہے کہ علمی ترقی سے مکر اور فریب کی بھی کچھ ترقی معلوم ہوتی ہے اور اہل حق کو نا قابل برداشت وساوس کا سامنا ہے ایمانی سادگی بہت گھٹ گئی ہے اور فلسفیانہ خیالات نے جن کے ساتھ دینی معلومات ہم قدم نہیں ہیں ایک زہر یلا اثر نو تعلیم یافتہ لوگوں پر ڈال رکھا ہے جود ہریت کی طرف کھینچ رہا ہے۔ اور واقعی نہایت مشکل ہے کہ اس اثر سے بغیر حمایت دینی تعلیم کے لوگ بیچ سکیں ۔ پس وائے برحال اُس شخص کے جو ایسے مدرسوں اور کالجوں میں اُس حالت میں چھوڑا گیا ہے جبکہ اس کو دینی معارف اور حقائق سے کچھ بھی خبر نہیں ۔ ہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس عالی ہمت گورنمنٹ نے جو نوع انسان کی ہمدرد ہے۔ اس ملک کے دلوں کی زمین کو جو ایک بنجر پڑا ہوا تھا اپنے ہاتھ کی کوششوں سے جنگلی درختوں اور جھاڑیوں اور مختلف اقسام کے گھاس سے جو بہت اونچے اور فراہم ہو کر زمین کو ڈھک رہے تھے پاک کر دیا ہے اور اب قدرتی طور پر وہ وقت آ گیا ہے جو سچائی کا بیچ اس زمین میں بویا جائے اور پھر آسمانی پانی سے آبپاشی ہو پس وہ لوگ بڑے ہی خوش نصیب ہیں جو اس مبارک گورنمنٹ کے ذریعہ سے آسمانی بارش کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اس گورنمنٹ کے وجود کو خدا تعالیٰ کا فضل سمجھیں اور اُس کی سچی اطاعت کیلئے ایسی کوشش کریں کہ دوسروں کیلئے نمونہ ہو جا ئیں ۔ کیا احسان کا عوض احسان نہیں۔ کیا نیکی کے بدلہ نیکی کرنا لازم نہیں سو چاہئے کہ ہر ایک شخص سوچ لے۔