سَت بچن — Page 277
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۷۷ ست بیچن فطرتی معیار سے مذاہب کا مقابلہ اور گورنمنٹ انگریزی کے احسان کا کچھ تذکرہ میرے خیال میں مذاہب کے پر کھنے اور جانچنے اور کھرے کھوٹے میں تمیز کرنے کیلئے اس سے بہتر کسی ملک کے باشندوں کو موقعہ ملنا ممکن نہیں جو ہمارے ملک پنجاب اور ہندوستان کو ملا ہے اس موقع کے حصول کیلئے پہلا فضل خدا تعالیٰ کا گورنمنٹ برطانیہ کا ہمارے اس ملک پر تسلط ہے۔ ہم نہایت ہی ناسپاس اور منکر نعمت ٹھہریں گے اگر ہم سچے دل سے اس محسن گورنمنٹ کا شکر نہ کریں جس کے بابرکت وجود سے ہمیں دعوت اور تبلیغ اسلام کا وہ موقع ملا جو ہم سے پہلے کسی بادشاہ کو بھی نہیں مل سکا کیونکہ اس علم دوست گورنمنٹ نے اظہار رائے میں وہ آزادی دی ہے جس کی نظیر اگر کسی اور موجودہ عملداری میں تلاش کرنا چاہیں تو لا حاصل ہے کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ہم لندن کے بازاروں میں دین اسلام کی تائید کیلئے وہ وعظ کر سکتے ہیں جس کا خاص مکہ معظمہ میں میسر آنا ہمارے لئے غیر ممکن ہے اور اس گورنمنٹ نے نہ صرف اشاعت کتب اور اشاعت مذہب میں ہر یک قوم کو آزادی دی بلکہ خود بھی ہر ایک فرقہ کو بذریعہ اشاعت علوم وفنون کے مدد دی اور تعلیم اور تربیت سے ایک دنیا کی آنکھیں کھول دیں۔ پس اگر چہ اس محسن گورنمنٹ کا یہ احسان بھی کچھ تھوڑا نہیں کہ وہ ہمارے مال اور آبرو اور خون کی جہاں تک طاقت ہے سچے دل سے محافظت کر رہی ہے اور ہمیں اُس آزادی سے فائدہ پہنچا رہی ہے جس کیلئے ہم سے پہلے بہتیرے نوع انسان کے بچے ہمدرد ترستے گذر گئے لیکن یہ دوسرا احسان گورنمنٹ کا اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ وہ جنگلی وحشیوں اور نام کے انسانوں کو انواع و اقسام کے تعلیم کے ذریعہ سے اہل علم و عقل بنانا چاہتی ہے ہم دیکھتے ہیں کہ اس گورنمنٹ کی متواتر کوششوں ۱۵۳