سَت بچن — Page 267
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۶۷ ست بچن عمدہ ہے جو انسان گناہ سے پاک ہو مگر کیا گناہ سے پاک ہونے کا یہی طریق ہے کہ ہم کسی غیر ۱۴۳ آدمی کی خودکشی پر بھروسہ رکھ کر اپنے ذہن میں آپ ہی یہ فرض کر لیں کہ ہم گناہ سے پاک ہو گئے۔ بالخصوص ایسا آدمی جو انجیل میں خود اقرار کرتا ہے جو میں نیک نہیں وہ کیونکر اپنے اقتدار سے دوسروں کو نیک بنا سکتا ہے اصل حقیقت نجات کی خداشناسی اور خدا پرستی ہے۔ پس کیا ایسے لوگ جو اس غلط نہی کے دوزخ میں پڑے ہوئے ہیں جو مریم کا صاحبزادہ ہی خدا ہے وہ کیسے حقیقی نجات کی اُمید رکھ سکتے ہیں انسان کی عملی اور اعتقادی غلطیاں ہی عذاب کی جڑہ ہیں وہی در حقیقت خدا تعالیٰ کے غضب سے آگ کی صورت پر متمثل ہوں گی اور جس طرح پتھر پر سخت ضرب لگانے سے آگ نکلتی ہے اسی طرح غضب الہی کی ضرب انہیں بداعتقاد یوں اور بدعملیوں سے آگ کے شعلے نکالے گی اور وہی آگ بداعتقادوں اور بدکاروں کو کھا جائے گی جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ بجلی کی آگ کے ساتھ خود انسان کی اندرونی آگ شامل ہو جاتی ہے تب دونوں مل کر اس کو بھسم کر دیتی ہیں اسی طرح غضب الہی کی آگ بداعتقادی اور بداعمالی کی آگ کے ساتھ ترکیب پاکر انسان کو جلا دے گی اسی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے نارُ الله الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْئِدَةِ یعنی جہنم کیا چیز ہے وہ خدا کے غضب کی آگ ہے جو دلوں پر پڑے گی یعنی وہ دل جو بداعمالی اور بداعتقادی کی آگ اپنے اندر رکھتے ہیں وہ غضب الہی کی آگ سے اپنے آگ کے شعلوں کو مشتعل کریں گے۔ تب یہ دونوں قسم کی آگ باہم مل کر ایسا ہی اُن کو بھسم کرے گی جیسا کہ صاعقہ گرنے سے انسان بھسم ہو جاتا ہے پس نجات وہی پائے گا جو بد اعتقادی اور بد عملی کی آگ سے دور رہے گا سو جو لوگ ایسے طور کی زندگی بسر کرتے ہیں کہ نہ تو سچی خدا شناسی کی وجہ سے اُن کے اعتقاد درست ہیں اور نہ وہ بداعمالیوں سے باز رہتے ہیں بلکہ ایک جھوٹے کفارہ پر بھروسہ کر کے دلیری سے گناہ کرتے ہیں وہ کیونکر نجات پاسکتے ہیں یہ بے چارے ابتک سمجھے نہیں کہ در حقیقت ہر یک انسان کے اندر ہی دوزخ کا شعلہ اور اندر ہی نجات کا چشمہ ہے دوزخ کا شعلہ فرو ہونے سے خود نجات کا چشمہ جوش مارتا ہے اُس عالم میں خدا تعالیٰ یہ سب باتیں محسوسات کے رنگ میں مشاہدہ کرادے گا اگر عیسائیوں ل الهمزة : ۸۰۷