سَت بچن — Page 266
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۶۶ ست بچن ۱۴۲ پھر آگے لکھتا ہے کہ وہ ست گور و یسوع مسیح ہے جس نے اپنی جان قربان کی اور گنہگاروں کے بدلے آپ لعنتی ہوا۔ اس کے ماننے سے لوگ گناہوں سے پاک ہو جاتے ہیں اور پھر سکھ صاحبوں کو مخاطب کر کے لکھتا ہے کہ جن لوگوں کو آپ اب تک گور و سمجھے بیٹھے ہیں اور اُن سے روشنی پانے کی امید رکھتے ہیں وہ لوگ اس لائق نہیں ہیں کہ آپ کے تاریک دل کو روشن کریں ہاں اس گور و یسوع مسیح میں یہ خاصیت ہے کہ کیسا ہی دل تاریک اور نا پاک کیوں نہ ہو وہ اُس کو روشن اور پاک کر سکتا ہے غرض یہ کہ تم یسوع کو خدا کر کے مان لو۔ پھر تم خاصے پاک اور پوتر ہو جاؤ گے اور سب گناہ جھڑ جائیں گے اور منش سے دیوتا بن جاؤ گے ۔ مگر افسوس کہ یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ اگر انسانوں کو ہی خدا بنانا ہے تو کیا اس قسم کے خدا ہندوؤں میں کچھ کم ہیں۔ باوانا تک صاحب ہندوؤں کے مت سے کیوں بیزار ہوئے اسی لئے تو ہوئے کہ ان کا وید بھی فانی چیزوں کو خدا قرار دیتا ہے اور پانی اور آگ اور ہوا اور سورج اور چاند کو پرستش کے لائق سمجھتا ہے اور اُس سچے خدا سے بیخبر ہے جو ان سب چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے پھر جبکہ با وا صاحب اُس سچے خدا پر ایمان لائے جس کی بے مثل اور کامل ذات پر زمین و آسمان گواہی دے رہا ہے اور نہ صرف ایمان لائے بلکہ اُس کے انوار کی برکتیں بھی حاصل کر لیں تو پھر اُن کے پیروؤں کی عقلمندی سے بہت بعید ہے کہ وہ اس تعلیم کے بعد جوان کو دی گئی ہے پھر باطل خداؤں کی طرف رجوع کریں ہندو لوگ ہزار ہا برس ایسے خداؤں کی آزمائش کر چکے ہیں اور نہ سرسری طور پر بلکہ بہت تحقیق کے بعد ایسے خدا اُن کو چھوڑنے پڑے اب پھر اس جھوٹی کیمیا کی تمنا اُن کی دانشمندی سے بہت دور ہے با وانا تک صاحب نے اُس خدا کا دامن پکڑا تھا جو مرنے اور جنم لینے سے پاک ہے اور جولوگوں کے گناہ بخشنے کے لئے آپ لعنتی بنے کا محتاج نہیں اور نہ کسی کی جان بچانے کے لئے اپنی جان دینے کی اس کو حاجت ہے مگر ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ عیسائیوں کا یہ کیسا خدا ہے جس کو دوسروں کے چھڑانے کے لئے بجز اپنے تئیں ہلاک کرنے کے اور کوئی تدبیر ہی نہیں سوجھتی اگر در حقیقت زمین و آسمان کا مد بر اور مالک اور خالق یہی بیچارہ ہے تو پھر خدائی کا انتظام سخت خطرہ میں ہے۔ بے شک یہ خواہش تو نہایت