سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 550

سَت بچن — Page 262

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۶۲ ست بچن ۱۳۸) کا نماز پڑھنا جو ان دونوں کی حضوری نہ ہونے سے نیت سے علیحدہ ہونا نواب دولت خاں نے سبب پوچھا کہ آپ نے نماز کو کیوں توڑا۔ گورونانک صاحب نے فرمایا کہ اس وقت آپ کابل میں گھوڑے خریدتے پھرتے تھے۔ قاضی کو بتلایا کہ اُن کی گھوڑی بیائی تھی صحن میں گڑھا تھا اندیشہ ہوا کہ کہیں اُس میں بچھیرا نہ گر پڑے دونوں صاحبوں نے قبول کیا کہ ٹھیک نماز کے وقت ہمارے خیال ٹھکانے نہ تھے ۔ اور منجملہ اُنکی کرامات کے جو سیوا سنگھ صاحب نے اپنے خط میں لکھے ہیں ایک یہ ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ حسن ابدال کے متصل ایک جگہ پنجہ صاحب ہے وہاں نا تک صاحب کا بابا ولی قندھاری کے ساتھ یہ ماجرا گذرا کہ ولی قندھاری صاحب پہاڑ کے اوپر ایک چشمہ کے متصل رہتے تھے اتفاق سے وہاں گورو نانک صاحب اور مردانہ جا نکلے مردانہ نے گور و صاحب سے التماس کی کہ اگر حکم ہو تو میں پانی لے آؤں اُنہوں نے اجازت نوٹ بعض سکھ صاحبان اپنی ناواقفی کے سبب سے با وانا نک صاحب کے اسلام سے انکار کرتے ہیں اور جب اُن کے اسلام کا ذکر کیا جائے تو ناراض ہوتے ہیں مگر اُن میں سے جو صاحب اپنے مذہب کے واقف اور عقلمند ہیں وہ خود اُن کے اسلام کا اقرار کرتے ہیں دیکھوسردار سیوا سنگھ نے اپنے خط ۲۸ ستمبر ۱۸۹۵ء میں کیونکر صاف صاف اقرار کر دیا کہ باوانا نک صاحب نے نواب دولت خان اور قاضی کے ساتھ نماز پڑھی اور ان کی عدم حضور نیت کی وجہ سے پھر نماز سے علیحدہ ہو گئے ظاہر ہے کہ اگر با وا صاحب کی عادت نماز پڑھنا نہ ہوتا اور وہ اپنے تئیں غیر مسلمان سمجھتے تو مسلمانوں کے ساتھ نماز میں ہرگز شامل نہ ہوتے پس نمازیوں کے ساتھ ان کا نماز میں کھڑا ہو جانا ایک نہایت پختہ دلیل اس بات پر ہے کہ وہ نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ بات ہماری طرف سے نہیں بلکہ سردار سیوا سنگھ صاحب کے خط کا بیان ہے جو خالصہ بہادر امرتسر مدرسہ کے سپر نٹنڈنٹ ہیں اور عرصہ قریب دس سال کا ہوا ہے کہ ایک صاحب بھائی نرائن سنگھ نام جن کو آ دگرنتھ کنٹھ تھا امرتسر سے قادیان میں تشریف لائے اور بازار میں ہماری مسجد کے قریب اُنہوں نے وعظ کیا اور بہت سے مسلمان اور ہندو اُن کی باتیں سنے کیلئے جمع ہوئے اور اس تقریر کی اثناء میں انہوں نے بیان فرمایا کہ باوا نا تک صاحب پانچ وقت نماز پڑھا کرتے تھے ہندو یہ بات سنکر سخت ناراض ہوئے اور قریب تھا کہ ان پر حملہ کریں مگر مسلمانوں نے اُن کی حمایت کی اور انہوں نے فرمایا کہ یہ لوگ سب نادان ہیں ان کو خبر نہیں جو باتیں میں بیان کرتا ہوں ان کے بڑے بڑے ثبوت میرے پاس ہیں مگر ہند و بیٹھ نہ سکے اور برا کہتے چلے گئے۔ یہ واقعہ قریبا صد باہندوؤں اور مسلمانوں کو قادیان میں معلوم ہے۔ منہ