سَت بچن — Page 243
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۴۳ ست بچن تاں ہندو مسلماناں دا جھگڑا ودھ گیا۔ ہندو کہن نہیں دیکھن دیناں تے مسلمان 119 تب ہندو مسلمانوں کا جھگڑا بڑھ گیا ہندو کہتے تھے کہ ہم باوا صاحب کو دیکھنے نہیں دیں گے اور مسلمان کہن اساں دیدار کرناں ہے ۔ جاں بہت واد ہوا۔ پٹھان کہن گور منزل کراں گے کہتے تھے کہ ہم نے دیدار کرنا ہے جب بہت فساد ہوا تب پٹھانوں نے کہا کہ ہم تجہیز تکفین اور جنازہ تاں وچ بھلے لوکاں کہیا اندر چل کے دیکھو تاں سہی جاں دیکھیا تاں وغیرہ سب رسوم اسلام ادا کریں گے تب اچھے لوگوں نے درمیان ہو کر کہا کہ ذرا اندر چل کے تو دیکھو جب اندر جا کر دیکھا تو چادر ہی ہے۔ بابے دی وہ ہے نہیں دوہاں دا جھگڑا چک گیا۔ جتنے معلوم ہوا کہ فقط چادر ہی پڑی ہے جسم نہیں ہے تب دونوں گروہوں کا جھگڑا فیصلہ ہو گیا جس قدر سکھ سیوک تھے سب رام رام کر اُٹھے لگے صفتاں کرن واہ باباجی توں دھن سکھ مرید تھے سب اللہ اللہ کر اُٹھے اور صفتیں کرتے تھے کہ واہ باوا صاحب آپ دھن ہیں سب کہن سری نانک جی پر لکھیا پرمیشر دی مورت سی ان کی قدرت ہیں سب کہتے تھے کہ نانک صاحب ظاہر ظاہر مظہر الہی تھے ان کی قدرت لکھی لکھی نہیں سی جاندی تے اساں سیوا بھی نا کیتی تے مسلمان بھی نہیں جاتی ہم نے کچھ خدمت کی اور مسلمان بھی بابے جی دا کھیل دیکھ کر لگے صفتاں کرن دھن خدائے ہے تے دھن بابا نانک باوا صاحب کا یہ کام دیکھ کر تعریف کرنے لگے کہ کیا ہی وہ قادر خدا ہے اور کیا ہی اچھا باوا جی ہے۔ جسدی قدرت لکھی نہیں گئی۔ ہندو مسلمان سب تارے ہین نانک تھا جس کی قدرت لکھی نہیں گئی سب ہندو مسلمانوں کو اُس نے تار دیا اور نه بقیہ نوٹ ۔ دھوکا لگا ہو اور باوا صاحب کے اندرونی حالات کا ان کو اصل پتہ نہ ہومگر جو مسلمان اپنے مذہب کے متعصب مرید ہوئے تھے اگر وہ باوا صاحب کو ہندو سمجھتے تو اُن کے ہر گز مرید نہ ہوتے اور اگر مرید ہوتے تو اسلام سے دست بردار ہو جاتے لیکن اُن کا فن اور جنازہ کیلئے جھگڑنا اس بات پر پختہ دلیل ہے کہ وہ با وا صاحب کو مسلمان ہی سمجھتے تھے اور خود بھی اسلام پر قائم اور مضبوط تھے اگر مرشد اسلام کو برا جانتا ہے تو مرید اسلام پر کیونکر قائم رہ سکتا ہے بلکہ یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ خود با وا صاحب نے ان کو سمجھا رکھا تھا کہ تم نے ضرور جنازہ پڑھنا۔ منہ