سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 550

سَت بچن — Page 242

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۸ جائیں تو اس کا علاج ہمارے پاس کچھ نہیں ۲۴۲ تو انم کہ ایں عہد و پیماں کنم کہ جاں در رو خلق قرباں کنم توانم کہ سر ہم دریں رہ دہم ولے بدگماں راچہ در ماں کنم ست بچن اور اب میں مناسب دیکھتا ہوں کہ باوا صاحب کی وفات پر جو مسلمانوں کا ہندوؤں سے جھگڑا ہوا تھا اُس کو بھائی بالا صاحب کی جنم ساکھی سے نقل کروں تا معلوم ہو کہ باوا صاحب کے اسلام کے بارے میں پہلا مدعی میں ہی نہیں ہوں سو وہ عبارت یہ ہے۔ سری ٹھاکر جی نانک جی کو آپنے انگاں میں ملائے لیا۔ تاں پھیر اوتھے پروار ترجمہ۔ خدا تعالیٰ نے نانک جی کو اپنے وجود میں ملا لیا یعنی باوا صاحب فوت ہو گئے تب وہاں مجلس وچ کہائے ہئے گئی۔ سب ایکٹر ہوئے کر لگے بیراگ کرنے جاں اتنے میں ایک شور پڑ گیا سب اکٹھے ہوکر غم کرنے لگے اتنے میں میں سری بابے کے مرید پٹھان کی وہ کہن ہم سری بابے جی کا دیدار کراں گے باوا صاحب کے مرید جو پٹھان تھے وہ کہنے لگے کہ ہم باوا صاحب کا دیدار کریں گے تاں ہندواں کہیا۔ بھائی اب تمہارو سما نہیں۔ تاں پٹھاناں کہیا ہمارا پیر ہے تب ہندوؤں نے کہا کہ بھائی اب تمہارا وقت نہیں تب پٹھانوں نے کہا کہ وہ ہمارا پیر ہے تے اسیں ضرور دیدار کراں گے اور جو پیراں دا راہ ہے سو ہم کراں گے۔ ہم اُس کا ضرور دیدار کریں گے اور جو پیروں کیلئے مسلمان رسوم ادا کرتے ہیں ہم کریں گے جلد نوٹ۔ ایسے لوگ جو مسلمان اور پھر باوا صاحب کے مرید تھے اُن کا فن اور جنازہ کیلئے اصرار کرنا اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ باوا صاحب نے جو اُن کے مرشد تھے اسلام کے مخالف اُن کو کوئی تعلیم نہیں دی تھی اور نہ اسلام کے حکموں اور عملوں سے ان کو برگشتہ کیا تھا ورنہ اگر با واصاحب ہندو تھے یا اسلام کے مخالف تھے تو باوا صاحب کی تاثیر ان میں یہ چاہئے تھی کہ وہ کم سے کم اسلام کے حکموں سے لا پروا ہو جاتے اور اُن کو فضول سمجھتے نہ یہ کہ باو اصاحب کے مرید اور ہمراز ہو کر اُن کے دفن اور جنازہ کیلئے جھگڑتے کیونکہ جس شخص کا مرشد اور مرشد بھی ایسا کامل جیسا کہ باوا صاحب تھے ایک دین کو جھوٹا سمجھتا ہو تو غیرممکن ہے کہ اس کے مرید جو اُس کے پیرو ہیں اُسی دین کے موافق اُس کی تجہیز تکفین کرنا چاہیں جس دین سے وہ اُن کو روکتا رہا۔ باوا صاحب ہندو مذہب میں پیدا ہوئے تھے اور ہندوؤں میں ایک زمانہ تک پرورش پائی تھی پس ممکن تھا کہ ظاہری تعلقات کی وجہ سے ہندوؤں کو