سَت بچن — Page 241
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۴۱ ست بچن کہ ہماری اس تحریر سے جو حق اور اصل حقیقت پر مشتمل ہے نیک طبع اور سعادت مند مسلمانوں ۱۱۷ میں صلح کاری اور مدارات کا مادہ آپ لوگوں کی نسبت ترقی کرے گا اور محبت اور اتفاق جس کے بغیر دنیوی زندگی کا کچھ بھی لطف نہیں روز بروز زیادت پذیر ہوگی اور ہمیں باوا صاحب کی بزرگیوں اور عزتوں میں کچھ کلام نہیں اور ایسے آدمی کو ہم در حقیقت خبیث اور نا پاک طبع سمجھتے ہیں جو اُن کی شان میں کوئی نالائق لفظ منہ پر لاوے یا تو ہین کا مرتکب ہو۔ ہم اس بات کو بھی افسوس سے لکھنا چاہتے ہیں کہ جو اسلامی بادشاہوں کے وقت میں سکھ صاحبوں سے اسلامی حکومتوں نے کچھ نزا ئیں کیں یا لڑائیاں ہوئیں تو یہ تمام باتیں در حقیقت دنیوی امور تھے اور نفسانیت کے تقاضا سے اُن کی ترقی ہوئی تھی اور دنیا پرستی نے ایسی نزاعوں کو با ہم بہت بڑھا دیا تھا مگر دنیا پرستوں پر افسوس کا مقام نہیں ہوتا بلکہ تاریخ بہت سی شہادتیں پیش کرتی ہے کہ ہر ایک مذہب کے لوگوں میں یہ نمونے موجود ہیں کہ راج اور بادشاہت کی حالت میں بھائی کو بھائی نے اور بیٹے نے باپ کو اور باپ نے بیٹے کو قتل کر دیا۔ ایسے لوگوں کو مذہب اور دیانت اور آخرت کی پرواہ نہیں ہوتی اور وہ لوگ دنیا میں بہت ہی تھوڑے گذرے ہیں جو حکومتوں اور طاقتوں کے وقت میں اپنے غریب شریکوں یا پڑوسیوں پر ظلم نہیں کرتے اور ظاہر ظاہر یا پوشیدہ عملی حکمتوں سے دوسری ریاستوں کو تباہ اور نیست و نابود کرنا نہیں چاہتے اور ان کے کمزور اور ذلیل کرنے کی فکر میں نہیں رہتے مگر ہر ایک فریق کے نیک دل اور شریف آدمی کو چاہئے کہ خود غرض بادشاہوں اور راجوں کے قصوں کو درمیان میں لاکر خواہ مخواہ اُن کے بیجا کینوں سے جو محض نفسانی اغراض پر مشتمل تھے آپ حصہ نہ لے وہ ایک قوم تھی جو گذرگئی اُن کے اعمال اُن کیلئے اور ہمارے اعمال ہمارے لئے ہمیں چاہئے کہ اپنی کھیتی میں اُن کے کانٹوں کو نہ بوئیں اور اپنے دلوں کو محض اس وجہ سے خراب نہ کریں کہ ہم سے پہلے بعض ہماری قوم میں سے ایسا کام کر چکے ہیں ہاں اگر ہم باوجود اپنی دلی صفائی اور سچائی کے اور باوجود اس کے کہ اپنے غیب دان خدا کے روبرو صادق اور قوموں کے ہمدرد ہوں اور کوئی بداندیشی اور کھوٹ ہمارے دل میں نہ ہو پھر بھی کھوٹوں اور بد اندیشوں اور مفسدوں میں سے شمار کئے