سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 550

سَت بچن — Page 240

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۴۰ ست بچن 11 کا لحاظ نہیں کیا تھا سو ہم لوگ آپ کے دلی انصاف سے وہی امید رکھتے ہیں جس کا نمونہ آپ صاحبوں کے معزز بزرگوں اور حلیم مزاج گروؤں سے ہمارے پہلے بھائی دیکھ چکے ہیں اور آپ صاحبوں پر یہ پوشیدہ نہیں کہ یہ رائے ہماری کچھ جدید رائے نہیں جس صورت میں اُن روشن ضمیر بزرگوں نے اس رائے کو نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جن کے سامنے یہ واقعات موجود تھے بلکہ مسلمانوں کے دعوے کو قبول کیا تو آپ صاحبوں کو بہر حال اُن کے نقش قدم پر چلنا چاہئے اور مجھ سے پہلے یہی رائے بڑے بڑے محقق انگریز بھی دے چکے ہیں اور وہ کتابیں برٹش انڈیا میں شائع بھی ہو چکی ہیں ہاں ہم نے تمام دلائل کو اس رسالہ میں جمع کر دیا ہے۔ غرض ہماری یہ رائے ہے جو نہایت نیک نیتی سے کامل تحقیقات کے بعد ہم نے لکھی ہے اور ہم اُمید رکھتے ہیں کہ آپ انکار کے وقت جلدی نہ کریں اور اُن عالیشان بزرگوں کو یاد کریں جو آپ سے پہلے فیصلہ دے چکے ہیں اور نیز آپ اُن علیم بزرگوں کے بزرگ اخلاق یاد کریں جنہوں نے دعویدار مسلمانوں کو درشتی سے جواب نہ دیا اور مسلمانوں کی رائے کو رد نہ کیا اور یہ ہر گز نہیں کہ سکتے کہ نعوذ باللہ انہوں نے منافقانہ کا رروائی کی ہو اور مسلمانوں کو خوش کر دیا ہو کیونکہ وہ لوگ خدا ترس اور خدا سے ڈرنے والے اور خدا پر بھروسہ رکھنے والے تھے وہ مخلوق کی کیا پر واہ رکھتے تھے خاص کر ایسے موقعہ پر کہ ہمیشہ کیلئے ایک داغ کی طرح ایک الزام باقی رہ سکتا تھا بلکہ در حقیقت وہ دلوں میں سمجھتے تھے کہ باوا صاحب کا ہندوؤں سے تو فقط یہ تعلق تھا کہ وہ اس قوم میں پیدا ہوئے اور مسلمانوں سے یہ تعلقات تھے کہ در حقیقت باوا صاحب اسلامی برکتوں کے وارث ہو گئے تھے اور اُن کا اندر اس وحدہ لا شریک کی معرفت اور بچے کرتار کی محبت سے بھر گیا تھا جس کی طرف اسلام بلاتا ہے اور وہ اُس نبی کے مصدق تھے جو اسلام کی ہدایت لے کر آیا تھا اسی واقعی علم کی وجہ سے وہ مسلمانوں کو رد نہ کر سکے۔ غرض پہلے ہمارے بھائیوں نے تو ان بزرگوں کے اخلاق کا نمونہ دیکھا اور اب ہم آپ صاحبوں کے اخلاق کا عمدہ نمونہ دیکھنے کیلئے خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں اور اس بات کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ہم باوا صاحب کی خوبیوں اور بزرگیوں کو مسلمانوں میں شائع کرنا چاہتے ہیں اور یقینا یہ بات یادر کھنے کے لائق ہے