سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 550

سَت بچن — Page 235

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۳۵ ست بچن طریق پر دفن کریں اور اپنے مذہب کے رو سے جنازہ وغیرہ جو کچھ مذہبی امور ہوں بجالا دیں تو 11 اس کی وہ بات سخت اشتعال کا موجب ہوگی اور کچھ تعجب نہیں کہ قوم مشتعل ہو کر اُس گستاخ اور بے ادب کو مار پیٹ کر کے نہایت ذلت سے سزا دیں کیونکہ ایسا دعویٰ صرف شخص متوفی کی ذات پر ہی مؤثر نہیں بلکہ اس دعوی سے ساری قوم کی سبکی ہوتی ہے اور نیز اُس مذہب کی تو ہین بھی متصور ہے۔ اب ہم جب دیکھتے ہیں کہ باوانا تک صاحب کی وفات پر کوئی اس قسم کا ماجرا پیش آیا یا نہیں اور اگر پیش آیا تو قوم کے بزرگوں نے اُس وقت کیا کیا تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ اُن کی وفات کے وقت ہندو مسلمانوں کا ضرور جھگڑا ہوا تھا۔ ہندو باوا صاحب کی نعش کو جلانا چاہتے تھے اور مسلمان اُن کے اسلام کے خیال سے دفن کرنے کیلئے اصرار کرتے تھے اس تکرار نے ایسا طول کھینچا کہ جنگ تک نوبت پہنچی انگریزی مورخ سب اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے آ کر نہایت زور کے ساتھ دعویٰ کیا کہ باوا صاحب ہم میں سے تھے اُن کی نعش ہمارے حوالہ کرو تا اسلام کے طریق پر ہم اُن کو دفن کریں۔ پھر تعجب یہ کہ باوا صاحب کی قوم کے بزرگوں میں سے جن کے سامنے یہ دعوئی ہوا اس بات کا رڈ کوئی بھی نہیں کر سکا کہ ایسا دعویٰ کیوں کیا جاتا ہے کہ باوا صاحب مسلمان تھے بلکہ قوم کے بزرگ اور دانشمندوں نے بجائے رو کے یہ بات پیش کی کہ باوا صاحب کی نعش چادر کے نیچے گم ہو گئی ہے اب ہند و مسلمان نصف نصف چادر لے لیں اور اپنی اپنی رسوم ادا کریں چنانچہ مسلمانوں نے نصف چادر لے کر اُس پر نماز جنازہ پڑھی اور دفن کر دیا اور ہندوؤں نے دوسری نصف کو جلا دیا۔ یہ انگریزی مورخوں نے سکھ صاحبوں نوٹ ۔ باوا صاحب کا جنازہ پڑھا جانا بہت قرین قیاس ہے کیونکہ گرنتھ صاحب میں ایک شعر ہے جس میں باوا صاحب نے بطور پیشگوئی کے اپنا جنازہ پڑھے جانے کے بارہ میں فرما دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتے ہیں۔ دنیا مقام فانی تحقیق دل دانی۔ مم سر موعز رائیل گرفته دل هیچ ندانی۔ زن پسر پدر برادران کس نیست دستگیر ۔ آخر بیفتم کس ندارد چوں شود تکبیر ۔ یعنی دنیا فنا کا مقام ہے یہ تحقیقی بات ہے اس کو دل سے سمجھ ۔ میرے سر کے بال عزرائیل کے ہاتھ میں ہیں اے دل تجھے کچھ بھی خبر نہیں عورت لڑکا باپ بھائی کوئی بھی دستگیری نہیں کر سکتا۔ آخر جب تکبیر یعنی نماز جنازہ میرے پر پڑھی جائے گی تو میں اُس وقت بیکس ہوں گا اور بیکس ہوکر گرا ہوا ہوں گا۔ اب تکبیر کا لفظ ایسا کھلا ہے کہ ہر ایک جانتا ہے کہ موت کے وقت تکبیر انہیں کیلئے ہوتی ہے جن کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ منہ