سَت بچن — Page 234
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۳۴ ست بچن 110 اُن کے گھر سے نہ کوئی وید نکلا اور نہ کوئی شاستر برآمد ہوا اور نہ وہ گرنتھ کے اشعار اپنے گھر میں لکھ کر چھوڑ گئے اور نہ کسی دیوتے یا دیوی کی مورت برآمد ہوئی نکلا تو چولہ صاحب نکلا جس کی تمام زمین زری کے کام کی طرح قرآنی آیات سے بھری ہوئی ہے۔ باوا صاحب سے سچی محبت کرنے والوں کو چاہئے کہ اس بات کو ردی کی طرح پھینک نہ دیں۔ اگر چولہ صاحب پر برکت یادگار نہ ہوتی تو کبھی کا ضائع ہو جاتا ایک طرف چولہ صاحب کو دیکھئے اور دوسری طرف انگد صاحب کی جنم ساکھی نے اس بات کو تصدیق کر لیا ہے کہ جو کلام چولہ پر لکھا ہوا ہے وہ قدرت کے ہاتھ سے لکھا گیا ہے۔ اب سوچ لو کہ جو قدرت کے ہاتھ سے لکھا گیا وہ کس کا کلام ہوا خدا کا یا انسان کا۔ غرض بھائی بالا صاحب کی جنم ساکھی جو اس زمانہ میں لکھی گئی تصدیق کرتی ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے پس کیا اس سے زیادہ کوئی اور بھی ثبوت ہوگا کہ چولہ صاحب اُس وقت سے اب تک موجود ہے اور انگر صاحب کی جنم ساکھی بھی اُس وقت سے اب تک موجود ہے ہم اپنے گھر سے کوئی چیز پیش نہیں کرتے چولہ صاحب بھی آپ کے پاس موجود ہے اور جنم ساکھی انگد صاحب کی بھی آپ کے پاس موجود ہے آپ چاہور د کرو خواہ قبول کرو۔ باوا نانک صاحب کی وفات کے متعلق بعض واقعات جبکہ ہم نے نہایت پختہ دلائل سے باوا صاحب کا اسلام اس کتاب میں ثابت کیا تو یہ بھی قرین مصلحت دیکھا کہ باوا صاحب کے وقت وفات پر بھی کچھ بحث کی جائے کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ جس شخص نے اپنے مذہبی عقائد سے ہاتھ نہ دھویا ہو اور اپنی قوم کے پرانے عقیدہ پر پختہ ہو اور اسی پر اُس کا انتقال ہو تو اُس کے اخیر وقت پر جو اُس کی زندگی کے دائرہ کا آخری نقطہ ہے ہر یک خویش و بیگا نہ معلوم کر لیتے ہیں جو اپنی قوم کے مذہب پر ہی اُس کا خاتمہ ہوا اگر کوئی غیر شخص اُس کے فوت ہونے کے وقت خواہ نخواہ اُس کی قوم کا جاکر مزاحم ہو کہ یہ شخص ہمارے مذہب میں تھا اس کی لاش ہمارے حوالہ کرو تا اس کو ہم اپنے