سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 550

سَت بچن — Page 233

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۳۳ ست بچن یہ بھی ثابت نہیں کہ پرمیشر تو بہ قبول کر لیتا ہے اور گناہ بخش دیتا ہے یہ تو عقیدہ اسلام کا ہے جیسا کہ ۱۰۹ الله جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے قَالَ مَنْ يُحْيِي الْعِظَامَ وَهِيَ رَمِيمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنْشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ یعنی انسان کہتا ہے کہ ایسی ہڈیوں کو کون نئے سرے زندہ کرے گا جو سڑ گل گئی ہوں ۔ ان کو کہہ دے وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا اور وہ ہر یک طور سے پیدا کرنا جانتا ہے گناہوں کو بخشا اور توبہ قبول کرتا ہے اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ کے یعنی تم اُس خدا سے کیوں انکار کرتے ہو جس نے تمہیں موت کے بعد زندگی بخشی پھر تمہیں موت دیگا اور پھر زندہ کرے گا اور پھر اُس کی درگاہ میں حاضر کئے جاؤ گے غرض با واصاحب کا تمام کلام اسلام کے عقیدے سے ملتا ہے اور اگر کوئی شخص بشر طیکہ متعصب نہ ہو ا یک سرسری نظر سے بھی دیکھے تب بھی وہ حق الیقین کی طرح سمجھ جائے گا کہ باوا صاحب کا کلام قرآنی تعلیم اور قرآنی حقائق معارف کے رنگ سے رنگ پذیر ہے اور وہ تمام ضروری عقیدے اسلام کے جو قرآن شریف میں درج ہیں باوا صاحب کے کلام میں مذکور ہیں ۔ پس اس جگہ بالطبع یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر باوا صاحب نے وید کو ترک کرنے کے بعد اسلام کی طرف رجوع نہیں کیا تھا تو پھر اُنہوں نے اسلام کے عقید۔ کے عقیدے کیوں اختیار کر لئے تمام جہان کی کتابیں اکٹھی کر کے دیکھو با وا صاحب کے اشعار اور اُن کے منہ کی باتیں بجز قرآن شریف کے اور کسی کتاب کے ساتھ مطابقت نہیں کھائیں گی اور اسی پر بس نہیں بلکہ باوا صاحب نے تو علانیہ کہہ دیا کہ بجز متابعت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی نجات نہیں چنانچہ ہم ابھی اس رسالہ میں بعض محقق انگریزوں کی شہادت بھی اس بارہ میں پیش کریں گے اور ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ باوا صاحب کی اصل سوانح دریافت کرنے کیلئے چولہ صاحب نہایت عمدہ رہنما ہے جس پر صد ہا سال سے اتفاق چلا آتا ہے باوا صاحب کی وفات کے بعد لیس : ۷۹، ۸۰ ۲ المؤمن : ٤ ٣ البقرة : ٢٩