سَت بچن

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 550

سَت بچن — Page 231

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۳۱ ست بچن یعنی ہر یک چیز فنا ہونے والی ہے اور ایک ذات تیرے رب کی رہ جائے گی۔ اور پھر باوا صاحب (۱۰۷) ایک شعر میں فرماتے ہیں۔ گر مکھ تول تلائیسی سچ تراجی تول آسا منسا مو ہنی گورٹھا کے سچ بول یعنی خدا کچے ترازو سے تو لے گا پورا پورا تول۔ اور اُمید اور طول امل تجھ کو برباد کر رہے ہیں ایک خدا کو مضبوط پکڑ لے اور بیچ بول۔ اب دیکھو باو اصاحب نے وہ عقیدہ اس جگہ ظاہر کیا ہے جو قرآن نے مسلمانوں کو عقیدہ سکھلایا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں وارد ہے الْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ الْحَقِّ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُوْلُوا قَوْلًا سَدِيدًا وَاذْكُرِ اسْمَ رَبَّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا یعنی اُس دن اعمال تو لے جائیں گے اور ایک تاگے کے برابر کسی پر زیادتی نہیں ہوگی۔اے دے لوگو جو ایمان لائے ہو خدا سے ڈرو اور وہ باتیں کیا کرو جو سچی اور راست اور حق اور حکمت پر مبنی ہوں اور خدا کو یاد کر اور اس کی طرف جھکا رہ۔ اور پھر باوانا تک صاحب ایک شعر میں فرماتے ہیں۔ ورنا ؤرن نہ بھاونی ہے کسے وڈا کرے وڈے ہتھ وڈیائیاں کے بھاوے میں دے یعنی طرح طرح کی اُس کی تقدیر ہے جس کو چاہے بڑا کرے اُسی بڑے کے ہاتھ بڑائیاں ہیں جس کو چاہے دیدے اب دیکھو ایسے طور سے تقدیر کو ماننا خاص اسلام کا اعتقاد ہے اور یہی تعلیم تمام قرآن میں بھری پڑی ہے اور ہریک عزت اور ذلت خدا تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے جس کو چاہتا ہے عزیز بنا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے مگر وید کے ماننے والوں کا یہ ہرگز اعتقاد نہیں وہ تو انسان کے ذرہ ذرہ رنج اور راحت کو کسی پہلے نا معلوم جنم کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا ث یعنی آپ خدا نے ہر یک چیز کو پیدا کیا اور اُس کا اندازہ بھی آپ اپنے اختیار سے مقرر کر دیا اور نیز فرماتا ہے مَا أَصَابَ مِنْ مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نبر أهات یعنی کوئی حادثہ نہ زمین پر نازل ہوتا ہے اور نہ تمہاری جانوں پر مگر وہ سب لکھا ہوا ہے ل الاعراف: 9 ل النساء : ۵۰ ۳ الاحزاب: اے کہ المزمل: ۹ ه الفرقان: ۳ الحديد: ٢٣